انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 64

۶۴ نجات گئے اور مرگئے مگر وہ خدا تعالیٰ کی حمدہی کرتے رہے۔آخر ان کا جسم بھی تکلیف میں مبتلاء ہوگیامگر پھر بھی ان کی زبان سے ناشکری کا محکمہ نہ نکلا۔یہ ایوب ؑکا واقعہ اس امر کی مثال کے طور پربیان کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کبھی بندہ کو ابتلاء میں اس پر اس کی حقیقت ظاہر کرنے کے لئے نہیں بلکہ دوسرے لوگوں پر اس کی حقیقت ظاہر کرنے کے لئے ڈالتاہے۔غرض خدا تعالی ٰدنیا میں لوگوں کو یہ بتانے کے لئے کہ میرے بندے منہ سے ہی شکرگذاری نہیں کرتے بلکہ ہر حالت میں شکر گزار ہوتے ہیں اپنے پاک بندوں پر ابتلاء لاتا ہے۔تیسری غرض ایسی مشکلات کی مدارج کی ترقی ہوتی ہے۔ابتلاء اس لئے نازل ہوتا ہے کہ بنده کو خواہش ہوتی ہے کہ نیکی کا کام اور تو رہا نہیں اب میں کیا کروں؟ خدا تعالیٰ اس پر ابتلاء نازل کر کے اس کے لئے کام نکالتا ہے اور اس وجہ سے اس پر تکلیف آتی ہے۔چوتھی غرض ان مشکلات کی یہ ہوتی ہے کہ ان کے ذریعہ اس بندے خدا تعالیٰ اپنی محبت اور تعلق کا اظہار کرتا ہے۔یہ آپ لوگوں کو یہ بات معلوم ہو گی مگرہے یہ سچی بات – خدا تعالیٰ دشمن کو چھوڑ دیتا ہے کہ میرے فلاں بندے کو دکھ دیتا جا جب وہ بہت بڑھ جاتا ہے تو اس وقت اس کو پکڑ لیتا ہے۔مثلاً ابو جہل رسول کریم ﷺ کو دکھ دیتاجب اتنا بڑھ گیا کہ لوگوں نے یہ خیال کرنا شروع کردیا کہ محمد ﷺ کچھ نہیں کر سکتا تو اس وقت خداتعالی ٰنے ابو جہل کو پکڑ لیا اور بتا دیا کہ اس طرح خدا کے محبوب کا مقابلہ کرنے والا تباہ ہوا کرتا ہے اور اس طرح جس شان سے ابو جہل پر عذاب آیا اگر مخالفت کے پہلے دن ہی ابو جہل کو مارا جاتا تو یہ شان ظاہر نہ ہوتی۔ابتلاءاور عذاب میں فرق اب میں یہ بتاتا توں کے عذاب اور ابتلاء میں کیا فرق ہے۔(۱) عذاب کا نتیجہ ہلاکت اور تباہی ہوتی ہے مگر ابتلاء کا یہ نتیجہ نہیں ہوا۔تکلیفیں تو دونوں طرح ہی آتی ہیں۔رسول کریم ﷺکے متعلق ہی دیکھ لو بار ہاایسا ہوا ہے کہ آپ دشمن کے نرغے میں اکیلے پھنس گئے مگر پھر اللہ تعالیٰ ٰنے آپ کو بچالیا مگرابوجہل ایک ہی دفعہ فوجوں سمیت ابتلاء میں ڈالا گیا لیکن ہلاک ہوگیا اور زندہ نہ نکل سکا۔(۲) عذاب کے نتیجہ میں نقصان کی زیادتی ہوتی ہے اورابتلاء میں نفع کی زیادتی ہوتی ہے۔ابتلاء کی مثال توایسی ہوتی ہے جیسے ربڑ کے گیند کو جتنے زور سے پھینکا جائے وہ اتناہی اونچااٹھتاہے مگر عذاب میں انسان گر کر اوپر نہیں اٹھ سکتا۔