انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 65

۶۵ نجات (۳) عذاب بھی انسان پر نازل کیا جاتا ہے اس کے دل میں مایوسی اور گھبراہٹ ہوتی ہے مگر جس پر ابتلاء نازل ہوتا ہے اس کے دل میں اطمینان اور تسلی ہوتی ہے۔جب عذاب نازل ہوتا ہے تو مغضوب کہتا ہے ہائے میں ہلاک ہو گیایا اگر وہ اس ابتلاء سے گھبراتا نہیں تو اس کے دل میں کبر اور خود پسندی کے جذبات جوش مارنے لگتے ہیں اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ مجھے کون ہلاک کر سکتا ہے؟ لیکن جب ابتلاء آتا ہے تو انسان کہتا ہے کوئی پرواہ نہیں میں کمزور اور بے کس ہوں لیکن میرے بچانے والا طاقتور ہے اور وہ خدا تعالی ٰپر یقین میں اور بھی ترقی کر جاتا ہے اور خدا تعالی ٰپر اس کی حسن ظنی بہت بڑھ جاتی ہے۔(۴) عذاب کے دور کرنے کی انسان جب کوشش کرتا ہے : ٹھوکریں کھاتا جاتا ہے مگر جس پر ابتلاء آتا ہے اس کا فہم رسا ہو جاتا ہے اور وہ بات کو خوب سمجھنے لگ جاتا ہے۔رسول کریم ﷺکے متعلق ہی دیکھ لو کفار آپؐ کا کھوج لگاتے لگاتے غار حرا تک پہنچ گئے اور وہاں جاکر کھوجی نے کہہ دیا کہ یا تو وہ آسمان پر چلا گیا ہے اور یا یہیں ہے۔ان میں کھوجی کی بات کا بڑ الحاظ کیا جاتا تھا اس لئے رسول کریم ﷺ کی جان اس وقت سخت خطرہ میں تھی مگر رسول کریم ﷺ کو ذرہ بھی گھبراہٹ نہ ہوئی۔آپﷺ نے باوجود اس کے کہ آپ ﷺکی جان کفار کو اصل مطلوب تھی اور ابو بکرؓ کو صرف اس لئے تلاش کرتے تھے کہ وہ آپ کی مدد کرتے تھے۔آپ ﷺنے ابوبکرؓ تسلی دینی شروع کی اور کہاکہ لاتحزن ان الله معنا \"ڈرو نہیں الله تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔اسی طرح کلل ہی میں نے سنایا تھا آپؐ سوئے ہوئے تھے کہ ایک کافر نے آپ کی تلوار اٹھالی اور آپ کو قتل کرنا چاہا لیکن آپؐ ذرا بھی نہ گھبرائے اور اس کے سوال پر کہ اب آپؐ کو کون بچا سکتا ہے؟ نہایت تسلی سے جواب دیا کہ ”الله - اس غیر معمولی حالت اطمینان کو دیکھ کر اس کافر پر اس قد ردہشت طاری ہو گی کہ اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی۔(۵) پانچواں فرق یہ ہے کہ ابتلاء میں انسان کو احساس بلاء نہیں ہوتا جب ابتلاء آتا ہے تو انسان ان تکالیف کو حقیر سمجھتا ہے اور ان میں لذت محسوس کرتا ہے کیونکہ اس کے دل میں خیال ہوتا ہے کہ میں ادنیٰ چیز کو اعلی ٰپر قربان کر رہا ہوں۔مثلا ًاگر اس کا مال جاتا ہے تو کہتا ہے خدا کے لئے ہی جاتا ہے اس لئے کیاپرواہ ہے۔یا اگر اس کا بیٹا مرجاتا ہے تو کہتا ہے خداہی کے لئے ہے اس کا کیا غم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہی ایک واقعہ ہے مبارک احمد سے آپ ؑکو بڑی محبت تھی اور اس کی بیماری میں آپ نے بڑی تیمارداری کی۔اس سے حضرت خلیفہ اول تک