انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 483

۴۸۳ موجب تھا- اس لیے وہ کچھ تو اپنے سرداروں کے اشاروں پر اور کچھ اپنی جہالت کی وجہ سے آپ کے مخالف تھے- ان تمام گروہوں نے اپنی اپنی جگہ پر آپ کے تباہ کرنے کے لیے پورا پورا زور لگایا علماء نے کفر کے فتوے تیار کئے اور مکہ اور مدینہ تک اپنے کفر ناموں پر دستخط کرانے کے لیے گئے- اپنی عادت مستمرہ کے ماتحت کفر کے عجیب وغریب موجبات انہوں نے تلاش کئے اور لوگوں کو آپ کے خلاف بھڑکایا اور اکسایا- صوفیاء نے آپ کے طریق کو پچھلے طریقوں کے مخالف بتا بتا کر اور اپنے قرب الہٰی اللہ اور معرفت کی لافوں سے ڈرا ڈرا کر عوام الناس کو روکا اور جھوٹے افسانوں کے پھیلانے اور فریب کی کرامتیں دکھانے تک سے بھی گریز نہ کیا اور بعض نے تو اپنے مریدوں سے یہاں تک کہدیا کہ اگر یہ سچے ہوئے تو ان کے نہ ماننے کا گناہ ہم اٹھا لینگے تم لوگ کچھ فکر نہ کرو اور اس طرح جہان کو گمراہ کیا- امراء نے اپنی دولت اپنی وجاہت سے آپ کے خخلاف کوشش شروع کی- غیر مذاہب والوں نے اپنی جگہ مسلمانوں کا ہاتھ بٹایا حکومتوں نے اپنے اقتدار سے کام لے کر لوگوں کو آپ سے ڈرانا شروع کیا اور جو لوگ آپ کوک ماننا چاہتے ان کو اپنی ناراضگی کا خوف دلا کر باز رکھنا چاہا- عوام الناس بائیکاٹ اور ایذا رسانی سے کام لے کر اپنے سرداروں کا ہاتھ بٹاتے رہے- غرض آپ کی مخالفت کے لیے تمام لوگ کیا مسلمان کہلانے والے اور کیا غیر مسلمان سب جمع ہو گئے اور سب نے ایک دوسرے کی مدد کی- تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ آپ کی تعلیم بھی ایسی نہ تھی جو زمانے کے حالات کے مطابق ہو اور اس کی رو میں بہنے والی ہو اگر وہ خیالات زمانہ کے مطابق ہوتی تو بھی کہا جا سکتا تھا کہ آپ کی ترقی آسمانی مدد سے نہیں بلکہ اس سبب سے ہے کہ جن خیالات کو آپ نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا- وہ اس زمانے کے خیالات کے مطابق تھے- پس لوگوں نے ان کو اپنے اندرونی احساسات کے مطابق پاکر قبول کر لیا- زمانے کے مطابق خیالات دو قسم کے ہوتے ہیں یا تو وہ کثیر آبادی کے خیالات کے مطابق ہوں یا وہ کثیر آبادی کے خیالات کے تو مخالف ہوں مگر ان خیالات کی تائید میں ہوں جو اس وقت کے دنیاوی علوم کا نتیجہ ہوں- اول الزکر قسم کے خیالات کا پھیلانا تو بہت آسان ہوتا ہے لیکن ثانی الزکر قسم کے خیالات بھی گو ابتداءً مخالفت کا منہ دیکھتے