انوارالعلوم (جلد 7) — Page 482
۴۸۲ جو انہیں سینکڑوں سال سے لوگوں پر حاصل تھی جاتی رہتی تھی- اس لیے علماء کو طبعاً آپ سے مخالفت تھی- وہ آپ کی ترقی میں اپنا تنزل اور آپ کے بڑھنے میں اپنا زوال دیکھتے تھے- وہ جانتے تھے کہ اگر ایک شخص خدا سے خبر پاکر دنیا کی اصلاح کے لیے کھڑا ہو گیا تو پھر ہمارے قیاسات کو کون پوچھتا ہے- گدی نشین آپ کے دشمن تھے کیونکہ آپ کی صداقت کے پھیلنے سے ان کے مرید ان کے ہاتھوں سے جاتے تھے اور بجائے شیخ اور رہبر کہلانے کے ایک دوسرے شخص کا مریدین کر ان کو رہنا پڑتا تھا اور پھر مریدوں کے جانے کے ساتھ ان آمدنیوں میں بھی فرق آتا تھا جن پر ان کا گزارہ تھا اور ان آزادیوں میں بھی فرق تھا جنہیں وہ اپنا حق سمجھتے تھے- امراء کو بھی آپ سے مخالفت تھی کیونکہ آپ احکام اسلام کی پابندی کرواتے تھے اور ان کو اس قسم کی پابندی کی عادت نہ تھی اور اسے وہ وبال جان سمجھتے تھے اور پھر یہ بھی تھا کہ آپ بنی نوع انسان کے ساتھ نیک سلوک اور ہمدردی کا حکم دیتے تھے جس کی وجہ سے امراء کو خیال تھا کہ آپ کی تعلیم کے پھیلنے سے وہ غلامی کی حالت جو لوگوں میں پیدا ہے دور ہو جائے گی اور ان کی نظر وسیع ہو کر ہماری حکومت جاتی رہے گی- غیر مذاہب کے لوگ بھی آپ کے دشمن تھے کیونکہ ان کو آپ میں وہ شخص نظر آرہا تھا جس سے ان کے مذاہب کی ہلاکت مقدر تھی جس طرح ایکک بکری ایک شیر سے طبعی منافرت رکھتی ہے اسی طرح غیر مذاہب کے لوگ آپ سے کھچاوٹ محسوس کرتے اور کوشش کرتے تھے کہ جس قدر جلد ہو سکے آپ کو مٹا دیں- حکام وقت بھی آپ کے مخالف تھے کیونکہ وہ بھی مسیح ومہدی ککے ناموں سے خوفزدہ تھے اور پرانی روایات کے اثر سے متاثر ہو کر ان ناموں والے شخص کی موجودگی اور فساد کے پھیلنے کو لازم وملزوم سمجھتے تھے- آپ کا اظہار وفاداری ان کے لیے تسلی کا موجب نہ تھا ککیونکہ وہ اسے موقعہ شناسی پر محمول کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ جب ان کو طاقت حاصل ہو جائے گی اس وقت یہ ان خیالات امن کو شاید چھوڑ دیں- عوام الناس کو بھی آپ سے مخالفت تھی کیونکہ اول تو وہ عملاء یا پیروں یا امیروں یا پنڈتوں یا پادریوں کے ماتحت ہوتے ہیں دوم وہ بوجہ رسوم وعادات کے ہر نئی بات کے سخت مخالف ہوتے ہیں- ان کے نزدیکک آپ کا دعویٰ ایک نیا دعویٰ اور اسلام میں رخنہ اندازی کا