انوارالعلوم (جلد 7) — Page 25
۲۵ عزت و تکریم تمہارا فرض ہے اور دن عقائد و مسائل کی حفاظت ضروری ہے کسی مجلس میں اگر کوئی ان کی ہتک کرتا ہے تو وہاں سے اٹھ جانا چاہئے اور جس کام پر تمہیں مقرر کیا جائے اس میں اگر کوئی روکیں پیدا کرتا ہے تو ان کا مقابلہ کرو اور کام کو پورا کر کے دکھاؤ - ویکھو ایک چھوٹی سی قوم سکھ ہے میں اس کی تعریف نہیں کرتا کہ اس نے جو طرز عمل اختیار کیا وہ اچھا ہے مگر اس نے کیسی جرأت د کھائی ہے ان کی اس جرأت سے دل لذت محسوس کرتا ہے۔انہوں نے ماریں کھائیں تکلیفیں اٹھائیں، جیل خانوں میں گئے مگر یہی کہتے رہے کہ ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ہمارے مقدس مقام غیروں کے قبضہ میں ہوں۔ہم قانونی لحاظ سے نہیں کہتے کیونکہ ہمیں اصل حالات معلوم نہیں کہ وہ کہاں تک حق بجانب ہیں مگر ان کی غیرت قابل تعریف ہے اور ان کا اس قدر تکالیف برداشت کر نادل میں سرور پیدا کرتا ہے۔پس تم کو باغیرت بننا چاہیے اور ہر بات میں ایسی غیرت و کھانی چاہئے کہ دشمن بھی تمہاری غیرت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو۔(9) ناشکری یہ بھی ایک ذاتی عیب ہے۔اس کی وجہ سے انسان ترقی سے محروم ہو جاتا ہے۔میرے نزدیک مسلمانوں کی تباہی کا بڑا باعث ناشکری ہی ہے۔خدا تعالیٰ نے رسول کریمﷺا کے ذریعہ انہیں یہ نعمت عطا کی کہ ان میں نبی پیدا کیا مگر اس کو انہوں نے رد کر دیا اور رسول کریم ﷺ کے درجہ کو گھٹا کر مسیحؑ کو بڑا بنانا شروع کر دیا۔اس وجہ سے عذاب میں مبتلاء کئے گئے۔مسلمان آنحضرت اﷺکے امتنان اور احسان کو بھول گئے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو بھی اصل منعم نے بھلا دیا اور وہ ذلیل ہوگئے۔پس ضروری ہے کہ جنہوں نے ہم تک دین پہنچایا اور جن کی قدر اور عزت کرنا ضروری ہے ان کے شکر گزار ہوں۔اگر تم ترقی کرنا چاہتے ہو تو قدر دانی کی عادت ڈالو۔رسول کریمﷺ فرماتے ہیں من لم يشکر الناس لم يشكر الله جس نے انسانوں کا شکر نہ کیاوو خد اکابھی شکرگزار نہیں ہوتا۔گویا قابل شکریہ انسانوں کا شکر گزار ہو اتنا ضروری ہے کہ ایسانہ کرنے سے انسان خدا کا شکر گزار بھی نہیں ہو سکتا پس آپ کوناشکرگزار نہیں ہونا چاہئے۔(۱۰) خودکشی یہ بھی ایک ذاتی عیب ہے گو اس کے متعلق سوال ہو گاکہ کی ہماری جماعت یہ عیب پایا جاتا ہے؟ اگر چہ ایسا نہیں ہے لیکن پچھلے سال میرے پاس ایک خط آیا تھا جس سے میں نے اندازہ لگایا کہ بعض لوگ خیال رکھتے ہیں کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ہات