انوارالعلوم (جلد 7) — Page 26
۲۶ یہ ہے کہ خودکشی خدا تعالیٰ سے مایوسی کی وجہ سے ہوتی ہے کیونکہ انسان جب یہ خیال کر لیتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا اور میں مشکلات سے مخلصی نہیں پا سکتا تو وہ خودکشی کرلیتا ہے۔ایسا انسان خدا کا خانہ خالی سمجھ لیتا ہے اور خیال کرلیتا ہے کہ اب خدا کچھ نہیں کر سکتا اسی لئے یہ ایساگناہ ہے جو کبھی معاف نہیں ہو سکتا کیونکہ جب انسان نے اپنے آپ کو مار ڈالا تو توبہ کب کر سکتا ہے اور کب یہ گناہ معاف ہو گا؟ شرک جیسا گناہ بھی توبہ کرنے سے معاف ہو سکتا ہے مگر خود کشی کا گناه معاف نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے کرنے کے بعد توبہ کرنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ایک دفعہ میں نے سوچنا شروع کیا کہ وہ کون سا گناہ ہے جو معاف نہیں ہو سکتا تو مجھے یہی گناہ ایسا نظر آیا۔اپنی ذات کے علاوہ دوسروں پر بھی اثر ڈالنے والے معاصی یہ موٹے موٹے ذاتی گناه میں نے بیان کر دیئے ہیں۔اب دوسرے گناہ جو دوسروں سے تعلق رکھتے ہیں اور جن سے بچنا ضروری ہے ان میں سے موٹے موٹے گناتا ہوں۔(1) خیانت ایسے گناہ جن کا اثر دوسروں پر بھی پڑتا ہے ان میں سے ایک خیانت ہے۔جب کوئی دوسرے پر اعتماد کر کے اپنا مال اس کے پاس رکھتا ہے اور وہ اس میں خیانت کرتا ہے تو یہ حد درجہ کی ہے شرمی ہے۔میں نے ایساخائن کوئی احمدیوں میں نہیں دیکھا کہ جس نے کسی کا روپیہ لے کر دینے سے کلی طور پر انکار کر دیا ہو اور یہ خدا کا فضل ہی ہے مگر اور قسم کی خیانتیں پائی جاتی ہیں۔مثلاً ایک شخص دوسرے کا روپیہ خرچ کرلیتا ہے اور جب وہ مانگتا ہے تو کہتا ہے کہ جب میرے پاس ہو گا تو دے دوں گا مگر سوال یہ ہے کہ دوسرے کے پاس روپیہ کوئی رکھتا تو اس لئے ہے کہ جب ضرورت ہوگی لے لونگا پھر کیوں اسے ضرورت کے وقت نہ دیا جائے؟ اس قسم کی خیانت دیکھی جاتی ہے اور یہ بھی خطرناک گناہ ہے کسی کے یہ کہہ دینے سے کہ جب روپیہ ہو گا دے دونگا خیانت کا جرم کم نہیں ہو جاتا۔جس کا روپیہ تم نے خرچ کر لیا اس کو تو ضرورت کے وقت نہ ملنے کی وجہ سے نقصان پہنچ رہا ہے اگر اسے یہ کہہ دیا جاتا کہ روپیہ نہیں دیتا تو بھی اس کا نقصان ہو تا۔پس اس کا تو دونوں صورتوں میں نقصان ہوتا ہے اس لئے یہ کہہ دینا کہ جب ہو گا دے دیا جائے گا جر م کو کم نہیں کرتا۔نفس کی پاکیزگی کے لئے ضروری ہے کہ اگر کوئی آپ کے پاس روپیہ رکھتا ہے تو جب مانگے اسے دے دو۔میرے نزدیک تو خیانت کا یہ مفہوم ہے کہ آپ کا ایک نہایت عزیز بیما ر پڑا ہے اور خطرہ ہے کہ اگر اس کا علاج نہ کیا تو مر جائے گا اس