انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 389

۳۸۹ دعوۃالامیر جائے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مصلح نہ آئے۔اگر اسلام سے اسی قسم کا سلوک ہونا ہے تو یہ اس بات کی علامت نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ کامل وجود ہیں بلکہ اس امر کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ اسلام کو ہلاک کرنا چاہتا ہے ، اگر آئندہ مجددین اور مأمورین کا سلسلہ بند کر دیاگیا ہے تو اس کی ظاہری علامت یہ ہونی چاہئے تھی کہ مسلمان گمراہی اور ضلالت سے بالکل محفوظ ہو جاتے اور آج بھی ان کو ہم ویسا ہی دیکھتے ہیں جیسا کہ صحابہ ؓکے وقت میں، لیکن جب روحانی تنزّل موجود ہے تو ضروری ہے کہ روحانی ترقی کے سامان بھی موجود ہوں۔دوم یہ کہ اگر بوجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل ہونے کے اب آپؐ کے مظاہر نہیں آسکتے تو اللہ تعالیٰ جو تما م کمالات کا سر چشمہ ہے اور حیّ وقیوم ہے اس کے مظاہر دنیا میں کیوں آتے ہیں ، اصل بات یہ ہے کہ جو چیز آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہے اسے یاد دلانے کے لئے اور اس کا اثر دلوں میں ثابت کر نے کیلئے مظاہر کی ہمیشہ ضرورت ہوتی ہے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل ہونے کے باوجود آپؐ کے بعد آپؐ کے مظاہر اور بروزوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو آپؐ کی یاد دلائیں اور آپؐ کے نمونے کو قائم کریں۔مشاہدے کے یہ امر اس لئے خلاف ہے کہ ہمیں اس تیرہ سو سال کے عرصہ میں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد گزرا ہے بیسیوں ایسے آدمی نظر آتے ہیں جو اللہ تعالیٰٰ کی طرف سے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف تھے اور جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ تجدیددین کے لئے کھڑے کئے گئے ہیں اور یہ لوگ ہمیں اسلام کا اعلیٰ نمونہ نظر آتے ہیں اور اسلام کی اشاعت اور اس کے قیام میں ان لوگوں کا بڑا ہاتھ معلوم ہوتا ہے۔جیسے کہ حجرت جنید بغدادی ، حضرت سید عبد القادر جیلانی ، حضرت شہاب الدین سہر وردی ، حضرت بہاؤالدین نقش بندی، حضرت محی الدین ابن عربی، حضرت خواجہ معین الدین چشتی، حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی وغیرھم رحمھم اللہ اجمعین ، پس ایسے لوگوں کے وجود اور ان کے کام کو دیکھتے ہوئے ہم کس طرح تسلیم کر سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مصلح کی ضرورت نہیں۔حق یہ ہے کہ آپؐ کے بعد بھی مصلح آسکتے ہیں اور آتے رہے ہیں اور آتے رہیں گے اور اس وقت حالاتِ زمانہ ایک بہت بڑے مصلح کی خبر دے رہے ہیں اور چونکہ اس قسم کے مصلح ہونے کے مدعی حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود ہی ہیں، اس لئے یہ امر ان کے صدقِ دعویٰ کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔