انوارالعلوم (جلد 7) — Page 388
۳۸۸ دعوۃالامیر کاروبارِ صادقاں ہرگز نماند ناتمام صادقاں را دستِ حق باشد نہاں در آستین (درثمین فارسی صفحہ ۹۶طبع بار اوّل ضیاء الاسلام پریس) غرض زمانے کی حالت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مصلح آنا چاہئے اور وہ بھی بہت بڑی شان کا، جو اسلام کو اپنے قدموں پر کھڑا کرے اور کُفر کا دلائل قاطعہ سے مقابلہ کرے اور براہین کی تلوار سے اس کو کاٹے اور صدی کے سر پر تمام دنیا میں سے صرف ایک ہی شخص نے اسلام کی حمایت کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کئے جانے کا دعویٰ کیا ہے یعنی بانیٔ سلسلہ احمدیہ نے، اس لئے ہر دانا اور عقلمند کا کام ہے کہ ان کے دعوے پر غور کرے اور اس کو سر سری نظر سے دیکھ کر منہ نہ پھیرلے ورنہ اسے ایک قدیم قانون الٰہی کا منکر ہونا پڑے گا اورخدا تعالیٰ کے اے امیر! اَیَّدَکَ اللّٰہُ بِنَصْرِہٖ الْعَزِیْزِ۔بعض لوگ اس جگہ شُبہ پیدا کیا کرتے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ کامل وجود تھے اس لئے آپ ؐ کے بعد اب کسی مصلح اور راہنما کی ضرورت نہیں۔اب قرآن کریم ہی مصلح ہے اور اس کی قوت قدسیہ ہی راہنما ہے یہ خیال ان لوگوں کا بظاہر تو نہایت خوبصورت نظر آتا ہے مگر اس پر غور کیا جائے تو قرآن کریم اور حدیث اور عقل اور مشاہدات کے صریح خلاف معلوم ہوتا ہے۔قرآن اور حدیث کے خلاف اس لئے کہ ان میں صاف طور پر آئندہ زمانوں میں مجددین اور مامورین کی بعثت کی خبر دی گئی ہے۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مجدد کا مبعوث ہونا یا مامور کا کھڑا کیا جانا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل ہونے کے خلاف ہو تا تو آپ ؐ کو سب نبیوں کا سردار بنا نے والا خدا اور کمال تک پہنچا نے والا آقا خود ہی کیوں آئندہ زمانے میں مجددین اور مامورین کی بعثت کا وعدہ دیتا۔کیا وہ اپنے کام کو آپ توڑتا اور اپنے قول کو آپ رد کرتا؟ اور پھر کیوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ زمانے میں مجددین اور مامورین کی آمد کی اطلاع دیتے؟ کیا آپؐ کے کمال سے آپؐ کی نسبت ہم زیادہ واقف ہیں کہ آپ ؐ تو اپنے بعد بہت سے مجددین کی خبر دیں اور بعض مامورین کی آمد کی اطلاع دیں، لیکن ہم اسے آپؐ کی شان کے خلاف سمجھیں۔اور یہ خیال عقل کے اس لئے خلاف ہے کہ عقل ہمیں بتاتی ہے کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مجدد یا مامور کو نہیں آنا تھا تو چاہئے تھا کہ مسلمانوں کی حالت کبھی بھی خراب نہ ہوتی اور وہ ہمیشہ نیکی اور تقویٰ پر قائم رہتے ، لیکن واقعات اس کے صریح خلاف ہیں۔عقل اس امر کو تسلیم نہیں کر سکتی کہ مسلمانوں میں خرابی تو رُونما ہو اور ان کی حالت بد سے بدتر ہو۔