انوارالعلوم (جلد 7) — Page 12
۱۲ جملہ ہے اس لئے یہ نہیں کہہ سکتے کہ خاتم کے معنی ہیں جیسا کہ خاتم القوم میں خاتم کے معنی مہر نہیں لئے جاسکتے اس لئے اس کے معنی آخری کے ہی ہیں اور نہیں ہو سکتے۔میں مولوی صاحب کے اس چیلنج کو قبول کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعودؑ کی شہادت اور اس کے متعلق اس شخص کی شہادت پیش کرتا ہوں جن کی صداقت کی تصدیق خدا تعالیٰ نے کی اور اس شخص کی بھی اس تقریر سے پیش کرتا ہوں جس کی نسبت خداتعالی ٰنے کہا کہ یہ ٹھیک ہے اور الہامی ہے۔وہ کون شخص ہے وہی ہے جس کو خدا تعالی ٰنے مسیح اور مہدی قرار دیا اور جس کا دروازه چھوڑ کر مولوی صاحب چلے گئے اور اب ادھر ادھر پھر رہے ہیں وہ حضرت مسیح موعودؑ ہیں۔آپ خطبہ الہامیہ کے شروع میں لکھتے ہیں وانی علمتھا الھاما من ربی و کانت ایة ؟ کہ یہ خطبہ مجھے خدا تعالی ٰنے الہاماً سکھایا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا ایک نشان ہے۔خطبہ الہامیہ وہ کتاب ہے جس کا ایک حصہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام کے طور پر نازل ہوا اور جو لوگ یہاں رہتے تھے وہ جانتے ہیں کہ الہامی کلام صفحہ اڑ تیس تک کا ہے۔حضرت مسیح موعودؑ کو الہام بتایا گیا تھا کہ عربی میں تقریر کرو روح القدس تمہارے ساتھ کھڑا ہو کر تمہارے منہ میں الفاظ ڈالے گا اس عید کے دن آپ نے خطبہ پڑھا اور وہ مطبوعہ کتاب خطبہ الہامیہ کے اڑتیس صفحہ تک ہے جس کا آخری فقره وسوف ينبئهم خبير ہے۔پس یہ وہ خطبہ ہے جو الہام کے طور پر اللہ تعالیٰٰ کی طرف سے نازل ہوا اور یہ صاف بات ہےکہ خدا تعالیٰ مولوی محمد علی صاحب سے اس زبان کو زیادہ جانتا ہے جس میں قرآن نازل ہوا اورقرآن کو خوب سمجھتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ خاتم کے کیا معنی ہیں اور کس طرح استعمال ہوتا ہے۔اس خطبہ کے صفحہ پنیتیس پر یہ کلام ہے۔وانی علی مقام الختم من الولایة کما کان سیدی المصطفیٰ علی مقام الختم من النبوة و انہ خاتم الانبیاء وانا خاتم الاولیاء لا ولی بعدی الا الذی ھو منی وعلی عھدی۔حضرت مسیح موعودؑ بذریعہ الہام فرماتے ہیں رسول کریم ﷺ خاتم الانبیاء تھے مگر میں خاتم الاولیاء ہوں۔یہاں خاتم کا لفظ ہے جو اولیاء یعنی ولیوں کی جماعت کی طرف مضاف ہے۔اب کیا نعوذ باللہ حضرت مسیح موعودؑ کے بعد سب کا فرہی کافر ہوں گے جن میں مولوی محمد علی صاحب بھی شامل ہیں کیونکہ اولیاء ولی کی جمع ہے اور ولی مومن کو کہتے ہیں۔یہ تو مولوی علی صاحب بھی