انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 280

۲۸۰ کی کمزوری ہے۔نوکر کھا کرتے ہیں کہ کام ہی کرنا ہے جو کام ہو گا وہی کریں گے میں مومن کاحال ہونا چاہئے اگر خدا تعالیٰ ملکانوں میں ہی ہمیں فتح دیدے اور ان کو ہی ہمارے ذریعہ ہدایت ہو جائے تو ہمیں انہی لوگوں میں کام کرنے سے کیا عذر ہو سکتا ہے۔ان لوگوں کو ہدایت خواه اب ہو خواہ ہماری نسلوں کے ذریعہ ہم نے کام ہی کرنا ہے اور وہ کرتے جانا چاہئے۔جو لوگ ست ہو گئے ہیں یہ ان کے ایمان کی کمزوری ہے۔انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہی کام کا اصل وقت ہے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کے ایک مامور کا زمانہ ہے۔کئی لوگ اپنے دل میں یہ حسرت لے کر مرگئے کہ کاش ہمرسول کریمﷺ کے زمانہ میں ہوتے تو خد مات کرتے مگر خدا تعالیٰ نے ہماری حسرتوں کو نکالنے کا ہمیں موقع عطا کر دیا ہے اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر ہم رسول کریم ﷺکا زمانہ پاتے تویہ کرتے کیونکہ ہمارے لئے حضرت مسیح موعود نے رسول کریم ﷺکا زمانہ آکر دکھا دیا۔اب بھی اسی طرح جہاد کا زمانہ ہے جس طرح رسول کریم ﷺکے وقت تھا اب بھی اسی طرح دشمنوں کا مقابلہ درپیش ہے جس طرح اس وقت تھا، اب بھی اسی قدر تکالیف موجود ہیں جس قدر اس وقت تھیں، آج بھی ایسے ہی خطرات ہیں جیسے اس زمانہ میں تھے، آپ بھی جان کی اسی طرح قربانی کی جاسکتی ہے جس طرح اس زمانہ میں کی جاتی تھی کئی علاقے ایسے ہیں کہ جہاں تبلیغ کرنے والوں کو جان کے قطرے ہیں، اب بھی اسی طرح مال خرچ کرنے کا وقت ہے جس طرح اس زمانہ میں تھا اور ایسے ہی اعلیٰ مقاصد میں خرچ کر سکتے ہیں جیسے مقاصد کے لئے رسول کریم ﷺ کے زمانے میں خرچ ہوتا تھا۔پس خداتعالی ٰنے ہمارے لئے کامیابی کے دروازے کھول دیئے ہیں اور حسرتیں نکالنے کے سامان کر دیئے ہیں اب بھی اگر کوئی سستی کرتا ہے تو یہ اس کے ایمان کی کمزوری ہے۔جو دوست اس وقت جارہے ہیں ان کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ایسا کام ہے جس کے مقابلہ کا اور کوئی کام نہیں ہے اور صرف ملکانوں میں ہی تبلیغ کے متعلق میں یہ نہیں کہہ رہا بلکہ جہاں بھی کوئی اس کام کے لئے جاتا ہے وہ ایسا ہی ہے۔اگر کوئی امریکہ جاتا ہے جہاں کے لوگ تعلیم یافتہ اور علم والے ہیں تو اس کا درجہ اس مبلّغ سے بڑا نہیں جو جاہل اور بے علم لوگوں میں جاکر تبلیغ کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کے نزدیک اس مبلّغ کا درجہ جو بادشاہوں کو تبلیغ کرنے کے لئے جاتا ہے اس مبلغ کے درجہ سے مساوی ہے جو غریبوں اور فقیروں کو تبلیغ کے لئے نکلتا ہے کیونکہ تبلیغ بیان کرنے کا نام ہے اور یہ جاہل کے سامنے بھی کیا جا تا ہے اور عالم کے سامنے بھی۔بادشاہ کے سامنے