انوارالعلوم (جلد 7) — Page 161
۱۶۱ کر کے ایک اور جانوربنا۔پھر اس سے انسان بن گیا۔یہ علم الارتقاء کہلاتا ہے یہ علم بجائے خود ایک بحث طلب چیزہے مگراس علم والوں نے اس علم سے ایک فائدہ اٹھایا کہ چھوٹی چیزوں کو بڑی بنالیا۔مثلاً کدو بہت بڑا بنالیا اور بعض نے مزے کی چیزیں بنالیں۔ایک مزے کا انگور تھا اس میں ترقی کر کے کچھ اور تبدیلی کرلی۔نباتات کی ترقی میں اس علم سے بہت فائدہ اٹھایا گیا ہے۔اسی علم میں یہ بحث بھی آتی ہے کہ باپ سے بیٹے کو کیاورثہ آتا ہے یعنی بیٹاباپ سے کن کن خصائل وعادات وغیرہ کولیتا ہے۔کس طرح سے ایک خاندان اپنی خاص بات اپنی اولادمیں منتقل کرتا چلا جاتا ہے۔۵۶ واں علم - علم الا قوام ہے۔مختلف قوموں میں آپس میں کیا تعلق ہے اور کسی حد تک ان میں تقریق وامتیازہے۔ایک طرح سے تمام اقوام ایک ہی ہیں کیونکہ ایک آدم کی اولاد ہیں مگر مختلف ملکوں میں چلے جانے اور رہنے سہنے سے اختلاف ہو گیا۔یورپ کے لوگوں کا دماغ خاص قسم کا ہے۔ایشیاء کے لوگوں کے قوی اور رنگ کے ہیں۔افریقہ والے اور قسم کے۔پھر میدانوں میں رہنے والے اور پہاڑوں کے رہنے والوں میں جدا امتیاز ہے۔یہ آب و ہوا اور تمدن کے اثر کے سبب ہوتا ہے یہاں تک کہ چمڑوں اور ہڈیوں کی بناوٹ میں فرق ہو جاتا ہے۔اس علم کے ماہر ایک ہڈی کو دیکھ کربتادیتے ہیں کہ وہ کس قوم کا آدمی ہے۔غرض یہ علم بھی بہت وسیع ہے اور اس میں آئے دن ترقی ہو رہی ہے۔علم نباتات و حیونات ۵۷ واں علم، علم النباتات ہے۔یہ علم بھی آج کل بہت ترقی کرگیا ہے۔نباتات کے کیا اعمال ہیں؟ نباتات زندہ ہیں یا نہیں؟ اور وہ سنتے اور دیکھتے ہیں یا نہیں ؟ ان میں حِس ہوتی ہے یا نہیں ؟ قوتیں ہوتی ہیں یا نہیں ؟ ان پر رنج و راحت کا اثر ہوتا ہے یا نہیں ؟ پھر ان باتوں کے معلوم کرنے کے کیا طریق ہیں۔اس علم کا ایک بہت بڑا ماہر ایک ہندوستانی ڈاکٹروں بوس ایک بنگالی ہے۔اس سے یورپ میں جاکر اپنے تجربوں سے ثابت کردیا ہے کہ نباتات میں بھی حس اور زندگی ہے اور وہ انسان کی طرح مختلف جذبات سے متاثر ہوتے ہیں ،سنتے ہیں، چلتے ہیں ،ان میں غصہ بھی ہوتا ہے اور وہ خبررسانی کرتے ہیں، ان میں شرم اور حیا بھی ہوتی ہے اور ان کو بھوک اور پیاس بھی لگتی ہے۔پھراس علم میں نباتات کی اقسام پر بحث ہوتی ہے اور یہ بھی کہ مختلف آب و ہوا میں کس قسم کے پودے ہوتے ہیں اور کس قسم کے نباتات کن ملکوں میں نہیں ہو سکتے۔ان کے امراض کیا