انوارالعلوم (جلد 7) — Page 76
۷۶ نجات گئی تو اس کا اس میں کیا قصور ہے اس کو تو ابدی نجات ملتی ہے۔تیسرے یہ کہ نجات ذاتی پاکیزگی کا نام ہے اور جب پاکیزگی حاصل ہو گئی تو پھر اس سے گرانا سخت بے انصافی ہے جب تک ذات میں برا تغیر نہ ہو عذاب میں نہیں ڈالا جاسکتا اور وہاں براتغیر ہو نہیں سکتا کیونکہ اعمال ختم ہو گئے ہیں یہ غلط ہے کہ نجات محدود ہوگی۔کیانجات سب کاحق ہےیا بعض کا؟ اب یہ سوال ہے کہ کیا نجات سب انسانوں کا ہے بعض کا؟ یہودیوں کے نزدیک خاص کاہی حق ہے۔وہ کہتے ہیں صرف یہودی نجات پائیں گے۔ہندووں کے نزدیک ہر ایک انسان نجات پاسکتا ہے مگر وہ جو اپنے اعمال کے زور سے پائے۔ان کے نزدیک فضل کوئی چیز نہیں ہے گویا وہ یہ مانتے ہیں کہ ہر شخص نجات پاسکتا ہے مگر یہ نہیں کہتے کہ ہرایک پاتا بھی ہے۔مسیحیوں کے نزدیک ہر شخص نجات پاسکتا ہے مگر جس نے اس دنیا میں نہ پائی وہ پھر نہیں پاسکتا۔پارسیوں اور مسلمانوں کا خیال آپس میں ملتا ہے۔پارسی کہتے ہیں ہرشخص نجات پائے گا صرف آگے پیچھے کا فرق ہو گا۔بعض لوگ عذاب کو پاکر نجات پائیں گے اور بعض پہلے ہی یہی اسلام کا عقیدہ ہے۔قرآن کریم نے اس کا ذکر مندرجہ ذیل آیات میں کیا ہے۔پہلی آیت جو اصل اصول ہے اس میں بندہ کی پیدائش کی غرض سے بیان کرتا ہے کہ ما خلقت الجن والانس الا ليعبدون۔۳۲- انسان اور جن کو پیداہی عبادت کے لئے کیا گیا ہے۔پس جب انسان پید اہی اس غرض کے لئے کیا گیا ہے تو ضروری ہے کہ ہر بندہ اس غرض کو پورا کرنے والوں میں شامل ہو جائے اور یہی نجات ہے۔دوسری جگہ یوں تشریح کی ہے کہ فادخلی فی عبدی وادخلی جنتی ۳۳ میرے بندوں میں داخل ہو جاؤ اور میری جنت میں داخل ہو جاؤ- اس سے معلوم ہوا کہ بندہ بننے کا لازمی نتیجہ ہے کہ انسان جنت میں داخل ہو جائے۔پس جب کہ ہر ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے ہندو بننے کے لئے پیدا کیا ہے اور جس مقصد کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے ضرور ہے کہ کسی نہ کسی وقت اس کو وہ پورا کرنے والا ہو جائے اور جب بھی وہ اس کو پورا کرے گا ضرور ہے کہ دوسرے قاعدے کے مطابق اپنے آقا کی جنت میں داخل ہو جائے اوریہی نجات ہے۔پھر فرماتا ہے۔وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْــٴًـاؕ-وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَاؕ-وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ