انوارالعلوم (جلد 7) — Page 75
۷۵ نجات اس کے پیٹ سے نکل آتی ہیں اور پھر دنیا کے چکروں میں چل پڑتی ہیں اور اس طرح دنیا چلتی رہتی ہے۔اب دیکھ لو تعلیم یافتہ ہندو اس عقیدہ کو دیکھ کر بھی کہتے ہوں گے کہ ربمايود الذين کفروالوكانوامسلمين۔مسلمالوں کا کیا اچھا عقیدہ ہے۔ہمارے باپ دادا کیسے تھے انہوں نے کیوں نہ یہی عقیدہ لے لیا۔گویا ان کے نزدیک نجات یہی ہے کہ خداکے پیٹ میں روحیں پڑی رہیں اور جب ہضم نہ ہوں توقے ذریعہ نکل آئیں۔آریہ لوگ اس رنگ میں نجات نہیں مانتے کیو نکہ وہ خدا میں جذب ہو جانے کے عقیدہ کے قائل نہیں لیکن وہ بھی اس امر کے قائل ہیں کہ ایک عرصہ تک نجات پاجانے کے بعد رو حیں پھر جنت میں سے نکال دی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ ٰان کے ایک گناہ کے بدلہ میں جو بغیر بدلے کے رکھ چھوڑے گا ان کو پھر جونوں کے چکروں میں ڈال دے گا۔ہندو مذہب کے علاوہ دوسرے مذاہب کے نزدیک نجات دائمی ہے جیسے مسیحی، یہودی زر نشتی وغیرہ۔قرآن کریم میں اس عقیدہ کو بہت واضح کیا گیا ہے۔فرماتا ہے الذين امنوا و عملوا الصلحت فلهم اجر غيرممنون کہ وہ لوگ جو مومن ہیں۔نیک عمل کرنے والے ہیں۔ان کونہ گننے والا انعام ملے گا۔یعنی ہمیشہ کا۔پس اسلامی نقطہ نگاہ سے نجات ہمیشہ کے لئے ہوگی۔محدود اعمال کاغیرمحدود بدلہ اس عقیدہ پر ایک اعتراض کیا جاتا ہے۔اور وہ یہ کہ محدود اعمال کا غیر محدود انعام کس طرح مل سکتاہے؟ اس کے متعلق اول تو ہم سے کہتے ہیں کہ تم کہتے ہوا عمال اور انعام میں مناسبت ہونی چاہیے مگر یہ بات تو تمہارے عقیدہ سے بھی غلط ثابت ہو جاتی ہے کیونکہ تم مانتے ہو کہ اربہا سال تک روح کو نجات ملے گی اور پھر اس کو جونوں میں ڈالا جائے مگر عمل تو اس کے چند سال کے ہوں گے اتنا عرصہ اسے نجات کیوں دے دی گئی؟» اعمال کے لحاظ سے نجات بھی تھوڑا عرصہ ہی چاہیے تھی اور اگر چند سال کے عمل کے بدلہ میں اربوں سال نجات مل سکتی ہے تو غیرمحدود نجات کیوں نہیں مل سکتی؟ اور اس پر کیوں اعتراض ہو سکتا ہے۔کیا صرف محدود اور غیرمحدودکے الفاظ کی وجہ سے؟ دوسرے یہ کہ جب روح خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کے لئے کھڑی ہے اور وہ کہتی ہے کہ اگر مجھے خداتعالی ٰاس جسم میں ہمیشہ رکھے گا تو ہمیشہ فرمانبردار رہوں گی اگر اس کو موت دے دی