انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 594 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 594

۵۹۴ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ابتداءً ایمان لانے والے آج تک دنیا کے سردار بنے ہوئے ہیں لیکن جو اس وقت ایمان لائے جب اسلام کو غلبہ حاصل ہو چکا تھا ان میں سے بہتوں کے نام بھی لوگ نہیں جانتے- پس جو شخص اس وقت کہ یہ جماعت کمزور سمجھی جاتی ہے ایمان لاتا ہے وہ اللہ تعالیٰٰ کے نزدیک سابقون میں لکھا جائے گا اور خاص انعامات کا وارث ہو گا اور عظیم الشان برکات کو دیکھے گا` اگرچہ بہت سا وقت گذر چکا ہے مگر پھر بھی عزت کے دروازق ابھی کھلے ہیں اور اللہ تعالیٰٰ کا قرب حاصل کرنے ابھی آسان ہے- پس میں آپ کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اس وقت کی قدر کریں اور ربنا اننا سمعنا منادیا ینادی للایمان ان آمنوا بربکم فامنا کہتے ہوئے اس آواز پر لبیک کہیں جسے خود اللہ تعالیٰ ٰنے بلند کیا ہے تاکہ آپ اس کے مقبول اور پیارے ہو جائیں- میں آپ سے سج سچ کہتا ہوں کہ احمدیت کے باہر اللہ تعالیٰ نہیں مل سکتا` ہر ایک شخص جو اپنے دل کو ٹٹولے گا اسے معلوم ہو جائے گا کہ اس کے دل میں اللہ تعالیٰ اور اس کی باتوں پر وہ یقین اور وثوق نہیں جو قطعی اور یقینی باتوں پر ہونا چاہئے اور نہ وہ اپنے دل میں وہ نور پائے گا جس کے بغیر اللہ تعالیٰ کا چہرہ نظر نہیں آ سکتا- یہ یقین اور وثوق اور یہ نور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کی جماعت کے باہر کہیں نہیں مل سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ سب کو ایک نقطے پر جمع کرے مگر کاکیاکوئی شخص جو موت پر نظر رکھتا اس زندگی پر خوش ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے دوری میں کٹے اور جس میں اللہ تعالیٰ کے نور سے حصہ نہ ملے- پس اس نور کو حاصل کیجئے اور اس یقین کی طرف دوڑیے جو احمدیت ہی میں حاصل ہو سکتا ہے اور جس کے بغیر زندگی بالکل بے مزہ اور بے لطف ہے اوار دوسروں پر سبقت لے جائیے تاکہ آئندہ نسلوں میں بھی آپ کا نام ادب اور احترام کے ساتھ لیا جائے اور زمانے کے آخر تک آپ کے نام پر رحمتیں بھیجنے والے موجود رہیں- بیشک اللہ تعالیٰ کے سلسلوں میں داخل ہونے والے انسان بڑے بوجھ کے نیچے دب جاتے ہیں مگر ہر ایک بوجھ تکلیف نہیں دیتا- کیا وہ کسان جو اپنی سال بھی کی کمائی سر پر رکھ کر اپنے گھر لاتا ہے بوجھ محسوس کرتے ہے یا وہ ماں جو اپنا بچہ گود میں اٹھائے پھرتی ہے بوجھ محسوس کرتی ہے؟ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی دین کی خدمت میں حصہ لینا اور اس کے لئے کوشش کرنا مومن کے لئے بوجھ نہیں ہوتا` دوسرے اسے پوجھ سمجھتے ہیں مگر وہ اسے عین راحت خیال کرتا ہے- پس ان ذمہ