انوارالعلوم (جلد 7) — Page 584
۵۸۴ صالحہ سے غنا اور دعا سے بے توجہی اور غیرت دینی کی کمی نظر آرہی ہے حضرت اقدسؑ ؑنے ایک ایسی جماعت پیدا کر دی ہے جو باوجود تعلیم یافتہ ہونے کے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کے ملائکہ اور دعا اور معجزات اور کلام الٰہی اور حشر اور نشر اور جنت اور دوزخ پر پورا یقین رکھتی ہے اور شریعت اسلام کی حتیٰ الوسع پابند ہے اور اس جماعت میں تلاش سے ہی کوئی آدمی ایسا ملے گا جو نمازوں کی ادائیگی میں تغافل کرتا ہو اور یہ جو کچھ کمی ہے یہ بھی ابتدائی حالت کا نتیجہ ہے اور آہستہ آہستہ دور ہو رہی ہے کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جبکہ کالجوں کے طالب علم اور تعلیم جدید کے دلدادہ دین سے بکلی متنفر ہیں اور دین کو صرف سیاسی اجتماع کا ذریعہ خیال کرتے ہیں- حضرت اقدسؑ ؑکے ذریعے سے ایک ایسی جماعت نو تعلیم یافتہ لوگوں کی تیار ہوئی ہے اور ہو رہی ہے جس کی سجدہ گاہیں آنسوؤں سے تر ہو جاتی ہیں اور جس کے سینے گریہ وبکا کے جوش سے ہانڈی کی طرح ابلتے ہیں اور جو اشاعت اسلام اور اعلائے محکمہ اسلام کو تمام سیاسی ترقیات اور حصول جاہ پر مقدم کر کے ماسوی ٰکو اس پر قربان کر رہی ہے اس میں بہت سے دنیا کما سکتے ہیں` مگر خدا کے دین کو کمزور دیکھ کر اور علمی جہاد کی ضرورت محسوس کر کے تمام امنگوں پر لات مار کر دین کی خدمت میں لگ گئے ہیں اور قلیل کوکثیر پر ترجیح دے رہے ہیں اور فاقہ کشی کو سیر شکمی سے زیادہ پسند کرتے ہیں ان کی زبانوں پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا نام ہے ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت ہے اور ان کے اعمال اللہ تعالیٰٰ اور اس کے رسول کی عظمت کو ظاہر کر رہے ہیں اور ان کے چہروں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ؐکا عشق ٹپک رہا ہے وہ اسی دنیا میں بستے ہیں اور ان کے کان آزادی کی آوازوں سے ناآشنا نہیں` ان کے دماغ آزادی کے خیالات سے ناواقف نہیں` ان کی انکھیں آزادی کے جدوجہد کے دیکھنے سے قاصر نہیں انہوں نے یہ دیکھا کہ اسلام اس وقت اس قدر آزادی کا محتاج نہیں جس قدر کہ غلامی کا- دجالی فتنے نے جو نقصان اسلام کو پہنچایا ہے- وہ اس وسیع انتظام کے ذریعہ پہنجایا ہے جو اس نے اسلام کی بیخ کنی کے لئے اختیار کیا تھا اور یہ کہ اسلام کی ترقی اس وقت صرف ایک بات چاہتی ہے کہ سب لوگ اللہ تعالیٰٰ کے ہو کر ایک جھنڈے کے نیچے آجائیں- بڑے اور چھوٹے امیر اور غریب عالم اور جاہل اپنی اپنی تمام طاقتوں کو ایک جگہ لا کر رکھ دیں اور ایک ہاتھ پر جمع ہو جائیں تا مشترکہ طور پر کفر و