انوارالعلوم (جلد 7) — Page 585
۵۸۵ فساد کا مقابلہ کیا جائے تو انہوں نے اللہ تعالیٰٰ کے حکم اور اسلام کے مفاد کو اپنے خیالات پر ترجیح دی اور زمانے کے اثرات سے متاثر ہونے سے انکار کر دیا اور اپنے ہاتھ سے اپنے گلوں میں اطاعت کی رسی ڈال لی اور خوشی سے اس امر کے لئے تیار ہو گئے- کہ اسلام کی بہتری کو مدنظر رکھ کر جس طرف اور جدھر بھی وہ ہاتھ اشارہ کرے` جس پر وہ جمع ہو گئے ہیں` وہ بلاغزر اور بلا حیلہ ادھر کو چل دیں گے اور کسی قربانی سے دریغ نہ کریں گے اور کسی تکلیف کو خیال میں نہ لائیں گے اور یہی نہیں کہ انہوں نے منہ سے یہ اقرار کیا بلکہ عملاً اسی طرح کر کے بھی دکھایا اور اس وقت ان میں سے کئی اپنے وطنوں سے دور` اپنے بیوی بچوں سے دور` روپیہ کے لئے نہیں بلکہ سخت مالی اور جانی تکلیف اٹھا کر خلیفہ وقت کی اطاعت میں اشاعت اسلام کر رہے ہیں اور بہت ہیں جو اس انتظار میں ہیں کہ کب ان کو حکم ملتا ہے کہ وہ بھی سب دنیاوی علاقوں کو توڑ کر اللہ تعالیٰ کے جلال کے اظہار کے لئے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوں- منھم من تضی نحبہ ومنھم من ینتظر فجزا ھم اللہ عنا احسن الجزائ- وہ اللہ تعالیٰ کے لیے مارے پیٹے جاتے ہیں اور گھروں سے نکالے جاتے ہیں اور ان کو گالیاں دی جاتی ہیں اور حقیر سمجھا جاتا ہے مگر وہ سب کچھ برداشت کرتے ہیں` کیونکہ ان کے دل منور ہو گئے اور ان کی باطنی آنکھیں کھل گئی ہیں اور انہوں نے وہ کچھ دیکھ لیا جو دوسروں نے نہیں دیکھا وہ ماریں کھاتے ہیں مگر دوسروں کی خیر خواہی کرتے ہیں- ذلیل کئے جاتے ہیں لیکن دوسروں کے لیے عزت چاہتے ہیں- وہ کون ہے جو اس وقت اسلام کی حفاظت اور اس کی اشاعت کے لیے امریکہ میں تنہا لڑ رہا ہے اور گو ایک وسیع سمندر میں ایک بلبلے کی طرح پڑا ہوا ہے مگر اس کا دل نہیں گھبراتا وہ ایک مردہ تھا جسے مسیح محمدیؐ نے اپنے ہاتھ سے زندہ کیا ہے اور وہ اس لیے تن تنہا امریکہ کو اسلام کے خلقہ غلامی میں لانے کے لئے کوشاں ہے کہ وہ جانتا ہے کہ ایک زندہ کروڑوں مردوں پر بھاری ہے- وہ کون ہیں جو انگلستان میں اشاعت اسلام کر رہے ہیں- وہ یہی مسیح محمدی ؐکے زندہ کئے ہوئے لوگ ہیں اور گو جسمانی طور پر انگلستان نے ہندوستان کو فتح کر لیا ہے مگر وہ یہ جانتے ہیں کہ انگلستان کی روح مر چکی ہے وہ خدا سے دور جا پڑا ہے وہ اس زندگی کے پانی کی بوتلیں لے کر جس سے مسیح نے ان کو زندہ کیا ہے دوسروں کے زندہ کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے ہیں`