انوارالعلوم (جلد 7) — Page 575
۵۷۵ مسیحیت گورنمنٹ کا مذہب ہے اور ڈرتے تھے کہ اس کا مقابلہ کریں گے تو نقصان پہنچے گا اور سوائے شاذو نادر کے اکثر علماء پادریوں کا رد کرنے سے خوف کھاتے تھے اور جو مقابلہ بھی کرتے- وہ ان کے حملوں کے آگے مغلوب ہو جاتے` کیونکہ قرآن کریم کا علم ہی ان کو حاصل نہ تھا` اس حالت کو دیکھ کر آپ نے پادریوں کا مقابلہ کرنے پر کمر ہمت باندھ لی اور خوب زور سے ان سے بحث ومباحثہ شروع کیا اور پھر اس مقابلے کے دروازے کو آریوں اور دیگر اقوام کے واسطے بھی وسیع کر دیا` کچھ عرصے کے بعد آپ کو آپ ؑکے والد صاحب نے واپس بلا لیا اور پھر یہ خیال کر کے کہ اب تو آپ ملازمت کر چکے ہیں- شاید اب ملازمت پر راضی ہو جائیں` پھر آپ کے ملازم کرانے کی کوشش کی مگر آپؑ ان سے معافی ہی چاہتے رہے` ہاں یہ دیکھ کر کہ آپ کے والد صاحب مصائب دنیوی میں بہت گھرے ہوئے ہیں ان کے کہنے پر یہ کام اپنے ذمے لے لیا کہ ان کی طرف سے ان کے مقدمات کی پیروی کر دیا کریں` ان مقدمات کے دوران میں آپ کی انابت الی اللہ اور بھی ظاہر ہوئی` ایک دفعہ ایسا ہوا کہ آپ ؑمقدمے کی پیروی کے لئے گئے` مقدمے کے پیش ہونے میں دیر ہو گئی` نماز کا وقت آگیا` آپؑ باوجود لوگوں کے منع کرنے کے نماز کے لئے چلے گئے اور جانے کے بعد ہی مقدمہ کی پیروی کے لیے بلائے گئے مگر آپ عبادت میں مشغول رہے اس سے فارغ ہوئے تو عدالت میں آئے- حسب قاعدہ سرکاری چاہئے تو یہ تھا کہ مجسٹریٹ یکطرفہ ڈگری دے کہ آپ کے خلاف فیصلہ سنا دیتا مگر اللہ تعالیٰٰ کو آ پؑ کی یہ بات ایسی پسند آئی کہ اس نے مجسٹریٹ کی توجہ کو اس طرف پھیر دیا اورس س نے آپ کی غیر حاضری کو نظر انداز کر کے فیصلہ آپ ؑکے والد صاحب کے حق میں کر دیا` ایک صاحب نے آپ ؑکے بچپن کے دوست تھے سناتے تھے کہ وہ لاہور میں ملازم تھے آپ بھی کسی اہم مقدمے کی پیروی کے لئے جس کی اپیل سب سے اعلیٰ عدالت میں دائر تھی وہاں گئے اور وہ مقدمہ ایسا تھا کہ اس میں ہارنے سے آپ کے والد صاحب کے حقوق اور بالاخر آپ کے حقوق کو سخت صدمہ پہنچتا ھا وہ بیان کرتے ہیں کہ جب آپ مقدمے سے واپس آئے تو بہت خوش تھے میں سمجھا کہ آ مقدمہ جیت گئے ہیں جبھی تو اس قدر خوش ہیں` میں نے بھی خوشی سے مقدمے میں کامیابی کی مبارک باد دی` تو آپ نے فرمایا کہ مقدمے تو ہم ہار گئے ہیں- خوش اس لئے ہیں کہ اب کچھ دن علیحدہ بیٹھ کر ذکر الٰہی کا موقع ملے گا- جب آپؑ اس قسم کے معاملات سے تنگ آگئے تو آپؑ نے ایک خط اپنے والد صاحب کو