انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 576

۵۷۶ لکھا جس میں اس قسم کے کاموں سے فارغ کر دئیے جانے کی درخواست کی تھی` اس خط کو میں یہاں نقل کر دیتا ہوں` تاکہ معلوم ہو کہ آپ ابتدائی عمر سے کس قدر دنیا سے متنفر تھے اور یاد الٰہی میں مشغول رہنے کو پسند کرتے تھے یہ خط آپ نے اس وقت کے دستور کے مطابق فارسی زبان میں لکھا تھا اور ذیل میں درج ہے- ’’حضرت والد مخدوم من سلامت! مراسم غلامانہ وقواعد فدویانہ بجا آور دہ` معرض حضرت والا میکند` چونکہ دریں ایام برای العین مے بینم وبچشم سرمشاہدہ میکنم کہ درہمہ ممالک وبلاد ہر سال چناں وبائے مے افتد کہ دوستاں راز دوستاں وخوشیاں را از خویشاں جدا مکیند- وہیچ سالے نمے بینم کہ ایں نائرہ عظیم وچنیں حادثہ الیم درآں سال شور قیامت نیفگند- نظر برآں دل از دنیا سرد شدہ است ورو از خوف جاں زردو اکثر ایں دو مصرعہ شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی بیادمے آیند واشک حسرت ریختہ میشود‘‘ مکن تکیہ بر عمر نا پائیدار مباش ایمن از بازی روزگار ونیز ایں دو مصرعہ ثانی از دیوان فرخ (حضرت اقدسؑؑ کا ابتدائی ایام کا تخلص ہے) نمک پاش جراحت دل میشود~}~ بدنیائے دوں دل مبندا اے جواں کہ وقت اجل مے رسد ناگہاں لہذا میخوا ہم کہ بقیہ عمر در گوشہ تنہائی نشینم ودامن از صحبت مردم بچینم وبیاد اوسبحانہ` مشغول شوم` مگر گذشتہ را عزرے وما فات راتد کے شود ~}~ عمر بگذشت نماز است جزاز گامے چند بہ کہ دریاد کسے صبح کنم شامے چند کہ دنیارا اساسے محکم نیست وزندگی را اعتبارے نے والیس من خاف علی نفسہ من انہ غیرہ- والسلام- جب آپ ؑکے والد صاحب فوت ہو گئے تو آپؑ نے تمام کاموں سے قطع تعلق کر لیا اور مطالعہ دین اور روزہ داری اور شب بیداری میں اوقات بسر کرنے لگے اور اخبارات اور رسائل کے ذریعے دشمنان اسلام کے حملوں کا جواب دیتے رہے- اس زمانے میں لوگ ایک ایک پیسے کے لئے لڑتے ہیں` مگر آپؑ نے اپنی کل جائداد اپنے بڑے بھائی صاحب کے سپرد کر دی- آپ ؑکے لیے کھانا ان کے گھر سے آجاتا اور جب وہ ضرورت سمجھتے کپڑے بنوا دیتے اور آپؑ نہ