انوارالعلوم (جلد 7) — Page 567
۵۶۷ یہ ضروریاتِ سلسلہ ایک دو روز کے لیے نہ تھیں اور نہ ایک دو ماہ کے لیے نہ ایک دو سال کے لیے` بلکہ ہر سال کام ترقی کرتا جاتا تھا اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کام کے لئے آپ ہی بندوبست کر دیتا تھا` ۱۸۹۸ء میں حضرت اقدسؑؑ نے جماعت کے بچوں کی دینی تعلیم کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ہائی سکول کھول دیا اس سے اخراجات میں اور ترقی ہوئی` پھر ایک رسالہ انگریزی اور ایک اردو ماہواری اشاعت اسلام کے لیے جاری کیا اس سے اور بھی ترقی ہوئی` مگر اللہ تعالیٰ سب اخراجات مہیا کرتا چلا گیا` حتی کہ اس وقت ایک انگریزی ہائی سکول کے علاوہ ایک دینیات کا کالج` ایک زنانہ مدرسہ` کئی پرائمری اور مڈل سکول` ہندوستانی مبلغین کی ایک جماعت ماریشس مشن` سیلون مشن` انگلستان مشن` امریکہ مشن اور بہت سے صیغہ جات` تالیف` اشاعت` تعلیم` تربیت` انتظام عام اورقضاۃ اور افتاء وغیرہ کے ہیں اور تین چار لاکھ کے قریب سالانہ خرچ ہے اور یہ سب اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اپنے وعدہ الیس اللہ بکاف عبدہ کے ماتحت بہم پہنچا رہا ہے- ہماری جماعت غرباء کی جماعت ہے- کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ ابتداء غریب لوگ ہی اس کے سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں جن کو دیکھ کر لوگ کہہ دیا کرتے ہیں مانرک اتبعک الا الذین ھم اراد لنا بدی الرای اور اس میں اس کی حکمت یہ ہوتی ہے تا کوئی شخص یہ نہ کہے کہ یہ سلسلہ میری مدد سے پھیلا اور تا نادان مخالف بھی اس قسم کا اعتراض نہ کر سکیں پس ایسی جماعت سے اس قدر بوجھ اٹھوانا بلا نصرت الٰہی نہیں ہو سکتا` یہ غریب جماعت اسی طرح سرکاری ٹیکس ادا کرتی ہے جس طرح اور لوگ ادا کرتے ہیں` زمینوں کے لگان دیتی ہے- سڑکوں` شفاخانوں وغیرہ کے اخراجات میں حصہ لیتی ہے- غرض سب خرچ جو دوسرے لوگوں پر ہیں وہ بھی ادا کرتی ہے اور پھر دین کی اشاعت اور اس کے قیام کے لیے بھی روپیہ دیتی ہے اور برابر پینتیس سال سے اس بوجھ کو برداشت کرتی چلی آرہی ہے اس زمانے میں بے شک نسبتاً زیادہ آسودہ حال اور معزز لوگ اس جماعت میں شامل ہو گئے ہیں مگر اسی قدر اخراجات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے- پس کیا یہ بات حیرت انگیز نہیں کہ جب کہ باقی دنیا باوجود ان سے زیادہ مالدار ہونے کے اپنے ذاتی اخراجات کی تنگی پر ہی شکوہ کرتی رہتی ہے- اس جماعت کے لوگ لاکھوں روپیہ سالانہ بلا ایک سال کا وقفہ ڈالنے کے اللہ کی راہ میں خرچ کر رہے ہیں اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس امر کے لیے بھی تیار ہیں کہ اگر ان سے کہا جائے کہ اپنے سب مال اللہ تعالیٰ کی