انوارالعلوم (جلد 7) — Page 568
۵۶۸ راہ میں دے دو تو وہ اسی وقت دے دیں- یہ بات کہاں سے پیدا ہو گئی؟ یقیناً الیس اللہ بکاف عبدہ کا الہام نازل کرنے والے نے لوگوں کے دلوں میں تغیر پیدا کیا ہے ورنہ کونسی طاقت تھی جو اس وقت جب کہ حضرت مسیح موعود ؑکو معمولی اخراجات کی فکر تھی` اس قدر بڑھ جانے والے اخراجات کے پورا کرنے کا وعدہ کرتی اور اس وعدہ کو پورا کر کے دکھا دیتی- آخر مسلمان کہلانے والے کروڑوں آدمی دنیا میں موجود ہیں وہ کس قدر روپیہ اسلام کی اشاعت کے لیے مہیا کر لیتے ہیں` ہماری جماعت کی تعداد کا اگر زیادہ اندازہ لگایا جائے تو جس قدر روپیہ وہ اشاعت اسلام پر خرچ کرتی ہے اگر اسی حساب سے ہندوستان کے دوسرے مسلمان بھی خرچ کریں تو آٹھ دس کروڑ روپیہ سالانہ ان کو اس صورت میں خرچ کرنا چاہئیے جبکہ ان کی مالی حالت ہماری جماعت کی طرح ہو` لیکن ان میں بڑے بڑے والیان ریاست اور کروڑ پتی تاجر بھی ہیں` اگر ان کا بھی خیال رکھ لیا جائے تو سالانہ پندرہ سولہ کروڑ روپیہ اشاعت اسلام پر صرف ہندوستان کے مسلمانوں کو خرچ کرنا چاہئے- مگر وہ تو ہماری جماعت کے چار پانچ لاکھ کے مقابلہ میں ایک دو لاکھ روپیہ بھی خرچ نہیں کرتے- یہ فرق اس لیے ہے کہ ہمارے اندر الیس اللہ بکاف عبدہ کا وعدہ اپنا کام کر رہا ہے- بارھویں پیشگوئی ترقی جماعت کے متعلق آپ کی پیشگوئی جو پوری ہو کر دوست ودشمن پر حجت ہو رہی ہے اب میں ان تبشیری پیشگوئیوں میں سے ایک پیشگوئی کو بطور مثال پیش کرتا ہوں جو اس تعلیم کی اشاعت کے متعلق کی گئی تھیں- جس کے ساتھ آپ مبعوث کئے گئے تھے یعنی وہ علوم اور معارف جو قرآن کریم میں بیان کئے گئے ہیں مگر لوگ ان سے ناواقفیت کی وجہ سے غافل ہو چکے تھے- یہ پیشگوئی بھی ایسی ہے کہ لاکھوں آدمی اس کے شاہد ہیں اور اس وقت کی گئی تھی کہ جب اس کے پورا ہونے کے سامان موجود نہ تھے اس پیشگوئی کے الفاظ یہ تھے- ’’میں تیری تبلیغ کو