انوارالعلوم (جلد 7) — Page 529
۵۲۹ آئے` مگر اس نے قسم کھانے سے انکار کر دیا` ہاں بلا قسم کے ایک اعلان کر دیا کہ میں اب بھی مسیحی مذہب کو سچا سمجھتا ہوں مگر اللہ تعالیٰ نے جس کا دلوں اور دماغوں پر تصرف ہے اس کے انہیں اعلانات میں اس کے قلم سے یہ نکلوا دیا کہ میں مسیح کو دوسرے دوسرے مسیحیوں کی طرح خدا نہیں سمجھتا اور جیسا کہ الہام کے الفاظ اوپر نقل کئے گئے ہیں- پیشگوئی یہ تھی کہ جو ایک بندے کو خدا بنا رہا ہے وہ ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور آتھم نے اقرار کر لیا کہ وہ مسیح کو خدا نہیں سمجھتا` مگر پھر بھی اس پر زور دیا گیا کہ اگر وہ فی الحقیقت ان ایام میں اپنے مذہب کی سچائی کے متعلق متردد نہیں ہوا اور اسلام کی صداقت کا احساس اس کے دل میں نہیں پیدا ہو گیا تھا تو وہ قسم کھا کر اعلان کر دے کہ میں ان ایام میں برابر انہیں خیالات پر قائم رہا ہوں جو اس سے پہلے میرے تھے- اگر وہ قسم کھا جائے اور ایک سال تک اس پر عذاب الٰہی نہ آئے تو پھر ہم جھوٹے ہوں گے اور یہ بھی لکھا کہ اگر آتھم قسم کھا جائے تو اسے ہم ایک ہزار روپیہ انعام دینگے- اس کا جواب آتھم نے یہ دیا کہ اس کے مذہب میں قسم کھانی جائز نہیں` حالانکہ انجیل میں حواریوں کی بہت سی قسمیں درج ہیں اور مسیحی حکومتوں میں کوئی بڑا عہدہ دار نہیں جسے بغیر قسم کھانے کے عہدہ دیا جائے` یہاں تک کہ بادشاہ کو بھی قسم دی جاتی ہے- ججوں کو بھی قسم دی جاتی ہے ممبران پارلیمنٹ کو بھی قسم دی جاتی ہے عہدیداران سول فوج کو بھی قسم دی جاتی ہے بلکہ مسیحی عدالتوں کا تو یہ قانون ہے کہ انہوں نے قسم کو صرف مسیحیوں کے لیے مخصوص کر دیا- سوائے مسیحیوں کے دوسروں سے وہ قسم نہیں لیتیں- بلکہ گواہی کے وقت یہ کہلواتی ہیں کہ میں جو کچھ کہوں گا خدا کو حاضر ناظر جان کر کہوں گا- پس جب کہ مسیحیوں کے نزدیک قسم صرف مسیحیوں کا حق ہے تو اس کا یہ عزر بالکل نامعقول تھا اور صرف قسم سے بچنے کے لیے تھا کہ اگر اس نے قسم کھائی تو وہ ہلاک ہو جائے گا اس شخص کے قسم کھانے سے انکار کرنے کی حقیقت اور بھی واضح ہو جاتی ہے جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسیحیوں میں کوئی بڑا مذہبی ۲ عہدہ نہیں دیا جاتا جب تک کہ امید وار قسم نہیں کھا لیتا اور پراٹسٹنٹ فرقہ کے پادریوں کو تو جس سے آتھم تعلق رکھتا تھا دو قسمیں کھانی پڑتی ہیں ایک گرجا سے وفاداری کی اور ایک حکومت سے وفاداری کی- جب اس کے سامنے یہ باتیں رکھی گئیں تو پھر وہ بالکل ہی خاموش ہو گیا` ادھر سے انعام کی رقم ایک ہزار سے بڑھا کر آہستہ آہستہ چار ہزار تک کر دی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ سال