انوارالعلوم (جلد 7) — Page 473
۴۷۳ صرف اس غرض کے لئے تھی کہ وہ ایک ایسی جگہ پر جا بسے جہاں ہر طرح کے کھانے پینے کی اشیاء ہوں اور عورتیں ہوں اور اُن کی صحبت ہو۔جب یہ حاصل ہو گیا تو سب کچھ حاصل ہو گیا حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ انسان کی پیدائش کی اصل غرض یہ ہے کہ لِیَعْبُدُوْنِ (ذاریات ع ۳) اس لئے کہ وہ میری عبادت کرے۔یعنی ایسی صورت اختیار کرے کہ میری صفات کو اپنے اندر نقش کرلے کیونکہ عبودیت کے معنے تذلل اور دوسری شے کے نقش کو قبول کر لینے کے ہوتے ہیں۔پس یہ خیال کرنا کہ انسان پچاس ۵۰ ساٹھ ۶۰ سال تک تو اس کا کو کرے گا۔جس کے لئے پیدا کی اگیا تھا اور بعد میں ایک نہ ختم ہو نے والے وقت کو کھانے پینے اور عیش و عشرت میں بسر کر ے گاجو حد درجہ کی نادانی تھی، اسی طرح دوزخ کے متعلق خیال کیا جاتا تھا کہ اس میں اللہ تعالیٰ کفار کو ایک نہ ختم ہونے والے عذاب کے لئے ڈال دیگا اور ایک سخت حاکم کی طرح پھر کبھی ان پر رحم نہ کرے گا۔حضرت اقدسؑ نے ان خیالات کو بھی ردّ کیا او ردلائل اور معجزات سے بعد بعد الموت پر ایمان کو لوگوں کے دلوں میں قائم کیااور دنیا کے بے ثباتی اور اُخروی زندی کی خوبی اور برتری کو روز روشن کی طرح ظاہر کر کے لوگوں کے دلوں میں اس کے مطابق عمل کر نے کی خواہش کو پیدا کیا اسی طرح جنت کے متعلق جو لغو خیالات لوگوں کے تھے ان کو بھی دور کیا، یہ وہم بھی دور کیا کہ جنت صرف ایک استعارہ ہے اور ثابت کیا کہ جنت کا وجود ایک حقیقت ہے اور اس خیال کی غلطی بھی ثابت کی کہ گویا وہ ا دُنیا کی طرح ہے، لیکن اس سے زیادہ وسیع پیمانے کی آرام و اسائش والی جگہ ہے اور بتایا کہ درحقیقت اس جگہ کی نعمتیں اس دنیا سے بالکل مختلف ہیں اور درحقیقت اس جگہ کی مادی نعمتیں اس دنیا کی عبادات کے متمثلات ہیں۔گویا یہاں کی روں وہاں کا جسم ہے اور وہاں کی روح ایک اور ترقی یا فتہ چیز ہے جس کی طاقتیں اس روح سے بہت بالاہوں گی۔جس طرح کہ نطفہ کی روحانی طاقتوں سے اس سے پیدا ہونے والے انسان کی روحانی طاقتیں اعلیٰ ہوتی ہیں اسی طرح آپؑ نے یہ ثابت کیا کہ دوزخ کا عذاب جسے لوگ نہ ختم ہونے والا کہتے ہیں درحقیقت ایک وقت پر جا کر ختم ہو جائے گا وہ ابدی ہے یعنی ایک نہایت لمبے عرصہ تک جانے والا ہے مگر وہ غیر محدود نہیں ہے آخر کاٹا جائے گا ، کیونکہ اللہ تعالیٰٰ جو اپنی ذات کی نسبت فرماتا ہے رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ اس کی شان سے بعید ہے کہ عاجز بندے کو نہ ختم