انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 474

۴۷۴ ہونے والا عذاب دے اور جبکہ قرآن کریم جنت کے انعامات کو غَیْرَ مَجْذُوْذزٍ (ہود ع۹) اور غَیْرُ مَمْنُوْنٍ(فصلت و انشقاق وتین )قرار دیتا ہے اور دوزخ کے عذاب کی نسبت یہ الفاظ نہیں استعما ل فرماتا ہے تو ضرور ہے کہ دونوں میں کچھ فرق ہوپھر بندہ کیوں خدا کی لگائی ہوئی شرائط کو چھوڑدے؟ خصوصاً جبکہ خدا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کے مطالب کی تفسیر ان الفاظ میں فرما دیں کہ یَاْتِیْ عَلٰی جَھَنَّمَ یَوْمٌ مَافِیْھَا مِنْ بَنِیْ اٰدَمَ اَحَدٌ تَخْفَقُ اَبْوَبُھَا (کنزالعمال صفحہ ۲۴۰)یعنی ایک وقتم جہنم پر ایسا آئے گا کہ اس کے اندر ایک آدمی بھی نہ رہے گا اور اس کے در وازے کھٹکھٹا ئے جائیں گے۔کسی کا کیا حق ہے کہ خدا کی رحمت اور اس کی بخشش کی حد بندی کرے؟ ان ارکانِ ایمان کے علاوہ عملی حصے میں بھی بہت بڑی بڑی تبدیلیاں پیدا ہوگئی تھیں بعض لوگوں نے اباحت پر زور دے رکھاتھا، اُن کا یہ عقیدہ ہو رہا تھا کہ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ آدمی کہہ دے اور پھر جو چاہے کرے۔ان لوگوں کا یہ یقین تھا کہ اگر ہم لوگ گناہ نہ کریں گے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم شفاعت کس کی کریں گے۔بعض لوگوں کا یہ خیال ہو رہا تھا کہ شریعت اصل مقصود نہیں وہ تو خدا تک پہنچا نے کیلئے بمنزلہ کشتی کے ہے پس جب انسان خدا کو پالے ت پھر اسے کسی کشتی میں بیٹھا رہنے کی کیا ضرورت ہے۔بعض لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ احکام شریعت در حقیقت باطنی امور کے لئے ظاہری نشانات ہیں جس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اس وقت لوگوں کی حالت بلحاظ تمدن کے بالکل ابتدائی تھی اور لوگ وحشی تھے۔ظاہر پر خاص زور دیا جاتا تھا۔اب علمی زمانہ ہے۔اب لوگ خوب سمجھدار ہو گئے ہیں۔اب ان ظاہری رسول کی پابندی چنداں ضروری نہیں، اگر کوئی شخص صفائی رکھتا ہے ، خدا کو دل میں یاد کرتا ہے قوم کا درد غم دل میں رکھتا ہے، غرباء کی مدد کیا کرتا ہے۔کھانے پینے میں احتیاط کرتا ہے۔قومی کاموں میں شریک ہوتا ہے تو یہی اس کی نماز اور یہی اس کا روزہ اور یہی اس کی زکوٰ ۃ اور یہی اس کا حج ہے۔بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر رسول کریمؐ سے ایک خاص قسم کا پاجامہ پہننا ثابت ہے تو اسی قسم کا پاجامہ پہننا چاہئے اور اگر آپؐ نے بال لمبے رکھے ہوئے تھے تو ہمیں بھی بال لمبے رکھنے چاہئیں۔علی ہذا القیاس۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حق نہ تھا کہ لوگوں کو کچھ حکم