انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 461

۴۶۱ دخل دیا ہے اور ایسے حصے اس میں ملا دئیے ہیں جو شیطان کی طرف سے تھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ تھے اور عام قاعدے کے بیان کرنے پر ہی کفایت نہیں کی گئی بلکہ یہ بھی کہا جا تا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ سورۂ نجم پڑھ رہے تھے جب ان آیات پر پہنچے کہ اَفَرَأَیْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّیo وَمَنٰوۃَ الثَالِثَۃَ الْاُخْرٰیoتو آپؐ کی زبان پر شیطان نے نعوذ باللہ یہ کلمات جاری کر دئیے تِلْکَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلٰی وَاِنَّ شَفَاعَتُھُنَّ لَتُرْتَجٰی۔یعنی یہ بُت جو بمنزلۂ خوبصورت لمبی گردنوں والی حسین عورتوں کے ہیں۔ان سے شفاعت کی اُمید کی جاتی ہے۔جب یہ الفاظ آپ کی زبان سے کفار نے سُنے تو انہوں نے بھی سجدہ کر دیا۔بعد میں آپ کو معلوم ہوا کہ یہ الفاظ شیطان نے آپؐ کی زبان پر جاری کر دئیے تھے تو آپؐ کو بہت افسوس ہوا۔(نعوذ باللہ من ذالک) بعض لوگوں نے اس کہانی کو اگر حد سے زیادہ خلاف واقعہ اور نا قابل برداشت سمجھا ہے تو یہ کہہ دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر شیطان نے یہ فقرات جاری نہیں کئے تھے بلکہ آپ کی سی آواز بنا کر اس طرح یہ کلمات کہہ دئیے تھے کہ یہی سمجھ میں آتا تھا کہ گویا آپ نے یہ کلمات پڑھے ہیں۔اس بات کو صحیح سمجھنے سے قرآن کریم کے متعلق جو بے اعتباری پیدا ہوتی ہے اس کو یوں دور کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰٰ نے بنا دیا ہے کہ فَیَنْسَخُ اللّٰہُ مَا یُلْقٰی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْکِمُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ(سورہ الحج ع ۷)یعنی پھر اللہ تعالیٰ شیطان کی ملاوٹ کو تومٹا یتا ہے۔اور آپنی آیتوں کو قائم کردیتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے، مگر اس جواب سے کسی کو تسلی کب ہو سکتی ہے کیونکہ اگر شیطان بھی نعوذ باللہ کلامِ الٰہی میں دست اندازی کر سکتا ہے تو پھر اس کا کیا ثبوت ہے کہ یہ آیت بھی شیطان نہیں ہے اور شیطان نے اپنی ملاوٹ کی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مطمئن کر نے کے لئے یہ نہیں کہہ دیا ہے کہ شیطان کی طرف سے جو کلام ہو وہ مٹادیا جاتا ہے تاکہ جو نہ مٹا دیا جائے اس کو اللہ کا کلام سمجھ لیا جائے۔بعض لوگوں نے قرآن کریم کو ایسا بے وقعت کر دیا ہے کہ اس کے صریح اور صاف احکام کو ضعیف بلکہ موضوع احادیث کے تابع کر دیا ہے اور اتباع سنت کے نام سے اللہ ذو الجلال کے کلام کو بعض خود غرض اور اخلاقِ ذمیمہ رکھنے والے انسانوں کے خیالات کے تابع کر دیا جائے۔قرآن کریم خواہ چلا چلا کر کسی کورد کرے۔لیکن اگر ضعیف سے ضعیف حدیث میں بھی اس کا ذکر