انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 462

۴۶۲ ہو تو وہ اس کی وحی الٰہی پر مقدم کر لیں گے اور اگر قرآن کریم کسی بات کو بیان کرتا ہو، لیکن حدیث میں اس کا ردّ ہو تو وہ قرآن کو پس پشت ڈال دیں گے اور حدیث کے بیان کو صحیح سمجھ لیں گے۔بعض لوگوں نے کلام الٰہی سے یہ سلوک کیا ہے کہ وہ اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خیال قرار دیتے ہیں اور اس کے اللہ کا کلام ہونے سے انکاری ہیں وہ منہ سے تو یہی کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے مگرساتھ ہی اس کی تشریح یہ کرتے ہیں کہ رسول کریم ؐ کے صاف دل میں جو خیال پیدا ہوتے تھے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی تائید ے ہوتے تھے اس لئے وہ اللہ ہی کا کلام کہلانا چاہئے ورنہ الفاظ (نعوذ باللہ من ذالک) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تیار کردہ ہیں، کیونکہ (ان کے نزدیک ) اللہ کا کلام الفاظ میں جو اپنے ادا ہونے کے لئے ہونٹ اور زبان چاہتے ہیں نہیں نازل ہو سکتا۔بعض نے اللہ کے کلام سے یہ سلوک کیا ہے کہ فیصد کر دیا ہے کہ اس کا ترجمہ ہی نہیں کیا جا سکتا گویا عوام الناس تک اس کے پہنچا نے کا جو ذریعہ تھا اُس کو بند کر کے مسلمانوں کو اللہ کے کلام کو مفہوم سمجھنے سے روک دیا ہے اور اس طرح بے دینی کی اشاعت کے ذمہ دار ہو گئے ہیں۔بعض نے اللہ کے کلام سے یہ سلوک کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ قرآن ایک مجمل کتاب ہے اس میں اشارۃً بعض ضروری باتیں تو بتا دی گئی ہیں ، لیکن کوئی مسئلہ اس سے ثابت نہیں ہوسکتا۔بعض نے اللہ کے کلام سے یہ سلوک کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم تمام کا تمام تقدیم اور تاخیر سے بھرا پڑا ہے۔جب تک اس کو مدّ نظر نہ رکھیں اس کی بات سمجھ میں نہیں آسکتی۔بعض نے اللہ تعالیٰ کے کلام کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے کہ تمام دنیا کے قصے اور کہانیاں جن کو عقل سلیم ردّ کرتی ہے اور فطرت ان سے نفرت کرتی ہے اکٹھی کر کے قرآن کریم کی طرف منسوب کر دی ہیں اور مضمون ملے یا نہ ملے، بلکہ خواہ الفاظِ قرآن کریم ان کے خلاف ہوں وہ اسرائیلی قصّوں کے ماتحت اس کے مضمون کو لے آتے ہیں اور ان قصّوں کو اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر بتاتے ہیں اور ان کو پہلے بزرگوں اور اولیاء اللہ کی طرف سے بھی منسوب کرنے سے نہیں جھجکتے۔