انوارالعلوم (جلد 7) — Page 27
۲۷ وقت اگر تمہارے پاس امانت کا روپیہ پڑا ہے اور روپیہ والا مانگتا ہے مگر آپ اس میں سے بیمارپر خرچ کر لیتے ہیں اور اسے نہیں دیتے تو یہ خیانت ہے۔آپ کا فرض یہ ہے کہ روپیہ جس کا ہے اسے دے دیں اور مریض کو خدا پر چھوڑ دیں پھر خواہ وہ مرے یا جئے۔پس کبھی کسی کے مال میں خیانت نہ کرو خواہ کسی قدرہی ضرورت کیوں نہ ہو اور خیانت کے مفہوم کو وسیع سمجھو محدود نہ کرو۔(۲) تہمت ایک عیب تہمت ہے کسی پر تہمت لگانا بہت بڑا عیب ہے۔کسی کے متعلق اپنے دل میں برا خیال رکھنا بد ظنی ہے اور اس کا بیان کرنا تہمت ہے۔دیکھو تو سہی اگر تمہیں کسی مجسٹریٹ کے متعلق معلوم ہو کہ اس نے فلاں کو بغیر تحقیقات سزادے دی ہے توکتنا برا لگے گا مگر ذرا اپنے متعلق دیکھو ایک بات کو لے کر دوسرے کے متعلق یونہی فیصلہ کر دیتے ہو کہ فلاں ایسا ہے۔کسی کو چور، ڈاکو، زانی،فاسق، فا جر کہہ دینا اس کو سزا دینا ہے کیونکہ اس طرح تم اس کی عزت کو گراتے ہو۔تم ایک غلط فیصلہ کرنے والے مجسٹریٹ پر ناراض ہوتے ہو مگر خود وہی غلطیاں کرتے ہو ان باتوں کو بھی چھوڑ دو۔(۳) ظلم ایک گناہ ظلم ہے یہ گناہ بہت وسیع طور پر پھیلا ہوا ہے۔بعض دفعہ اس کو دیکھ کر مجھے خیال آتا ہے کہ بالشویک طریق اسی کا طبعی نتیجہ ہے۔امیر غریب پر، بادشاه فقير پر،آقا نوکر پر، افسر ماتحت پر، بڑا چھوٹے پر، زبردست کمزور پر ظلم کرتا ہے اور ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ دوسرے کاحق لےلے حالانکہ مومن کا کام یہ ہے کہ اپنا دوسرے کو دے دے اور اگر اس درجہ پر نہیں تو کم از کم دو سرے کا حق تو تلف نہ کرے۔مگر عجیب بات ہے کہ ایک شخص پندرہ سال کام کرتا ہے اور تنخواہ لیتا ہے مگر جب وہ ملازمت چھوڑ دیتا ہے تو بھی اس پر اس لئے ناراضگی کا اظہار کیا جاتا ہے کہ اس نے ہمارا فلاں کام نہ کیا بڑا نمک حرام ہے۔مگر نمک توتم نے بھی اس کا کھایا وہ تمہارا کام کرتا رہا اس کے بدلہ میں تم نے بھی اسے فائدہ پہنچایا۔گاؤں میں نجار، معمار وغیرہ کام کرنے والے لوگ ہوتے ہیں ان کے حقوق تلف کرنا بھی ظلم ہے پس عورتوں کے حقوق، نوکروں کے حقوق، گاؤں میں کام کرنے والوں کے حقوق اور ان کے علاوہ اور بھی جس کے حقوق ہوں ان کا تلف کرنا بہت بڑا گناہ ہے اس سے بچنا چاہئے۔(۴) دھوکا ایک عیب دھوکا ہے۔ایک شخص کسی پر اعتبار کرتا ہے مگر وہ اس سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے یہ بھی بڑا گناہ ہے۔بعض لوگ دھوکا دیکر کسی کی چیزلے لیتے ہیں