انوارالعلوم (جلد 7) — Page 447
۴۴۷ ہمیں عزت ملتی ہے- اس کے ماتحت ہمارا لحاظ کرنے لگتے ہیں وہ ہماری التجاؤں کو سنتا ہے اور ہماری تکلیفوں کو دور کرتا ہے اثر ہر ایک شخص اس بات کو محسوس کر لیتا ہے کہ ہم اس کے مقبول اور پیارے ہیں، لیکن اگر کچھ پتا نہیں لگ سکتا تو اللہ تعالیٰ کے تعلق کا کہ نہ اس کا اثر ہمارے نفس پر کچھ پڑتا ہے اور ہمارے تعلقات پر ہم ویسے کے ویسے ہی رہتے ہیں جیسے کہ پہلے تھے- غرض آپ نے ثابت کیا کہ زندہ مذہب میں یہ علامت پائی جانی چاہئے کہ اس پر عمل کرنےوالا خدا تعالیٰ کو پا سکے اور اس کا مقرب ہو سکے اور خدا تعالیٰ کے مقروں میں اس کا قرب پا لینے کے کچھ آثار ہونے چاہئیں۔پس چاہئے کہ ہر مذہب کے لوگ بجائے آپس میں ایک دوسرے پرحملہ کرنے کے اپنی روحانی زندگی کا ثبوت دیں اور اپنے مقرب خدا ہونے کے واقعات سے ثابت کریں اور ایسے لوگوں کو پیش کریں جنہوں نے ان دینوں پر چل کر خداے تعلق پیدا کیا ہو اور اس کے وصال کے پیالے کون ہو پھر جو مذہب اس معیار کے مطابق سچاہو اس کو مان لیا جائے ورنہ ایک جسم بے جان سمجھ کر اس کو اپنے سے دور پھینکا جائے کہ وہ دوسرے کو نہیں اٹھا سکتا بلکہ اس کو اٹھانا پڑتا ہے ایسا مذہب بجائے نفع پہنچانے کے نقصان پہنچائے گا اور اس دنیا میں رسوا کرے گا اور اگلے جہان میں عذاب میں مبتلاء - یہ دعوی آپ کا ایسا تھا کہ کوئی سمجھدار اس کو رد نہیں کر سکتا تھا۔اس دعوے کے ساتھ ہی غیرمذاہب کے پیروؤں پر بجلی گری اور وہ اپنی عزت کے بچانے کی فکر میں لگ گئے۔آپ نے بڑے زور سے اعلان کیا کہ اس قسم کی زندگی کے آثار صرف اسلام میں پائے جاتے ہیں دوسرے مذاہب ہرگز اس معیار پر پورے نہیں اتر سکتے اگر کسی کو اس کے خلاف دعوی ہے تو میرے مقابلے میں آکر دیکھ لے مگر باوجود غیرت دلانے کے کوئی مقابلے پر نہ آیا اور آتا بھی کس طرح؟ کچھ اند ر ہو تاتو آتا- گلا پھاڑنے اور چلا چلا کر یہ شور برپا کرنے کے لئے تو ہزاروں لوگ تیار ہو جائیں گے کہ ہمارا مذہب سچاہے مگر خدا کی محبت اور اس کے تعلق کا ثبوت دیناتو کسی کے اختیار میں نہیں، خدا کی محبت تو کیا خدا سے ایک عارضی تعلق بھی جن لوگوں کو نہ ہو وہ خدا کے تعلق کا کیا ثبوت دیں۔آپؐ نے ہندوؤں کو بھی اسی دعوت دی اور مسیحیوں کو بھی اور یہود کو بھی اور دیگر تمام ادیان کو بھی مگر کوئی اس حربے کے برداشت کرنے کے لئے تیار نہ ہوا۔مختلف پیرایوں اور