انوارالعلوم (جلد 7) — Page 446
۴۴۶ آپ نے یہ ثابت کیا کہ قرآن کریم تمام اصول اسلام کو خود پیش کرتا ہے اور ان کی سچائی کے دلائل بھی دیتا ہے اور اس کے ثبوت میں آپ نے سینکڑوں مسائل کے متعلق قرآن کریم کا دعوی اور اس کے دلائل پیش کر کے اپنی بات کو روز روشن کی طرح ثابت کر دیا اور دشمنان اسلام آپ کے مقابلے سے بالکل عاجز آگئے اور وہ اس حربے سے اس قدر گھبرا گئے ہیں کہ آج تک ان کو کوئی حیلہ نہیں مل سکا جس سے اس کی زد سے بچ سکیں اور نہ آئندہ مل سکتا ہے یہ علم کلام ایسا مکمل اور اعلیٰ ہے کہ نہ اس کا انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کی موجودگی میں جھوٹ کی تائید کی جا سکتی ہے- پس جوں جوں اس حربے کو استعمال کیا جائے گا ادیان باطلہ کے نمائندے مذہبی مباحثات سے ہی چرائیں گے اور ان کے پیروؤں پر اپنے مذہب کی کمزوی کھلتی جائے گی لیظھرہ علی الدین کلہ کا نظارہ دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھے گی- پانچواں حربہ جو حصرت اقدس مرزا غلام احمد علیہ اصلوۃ والسلام نے چلایا اور جس سے دیگر مذاہب کے جھنڈوں کو کلی طور پر سرنگوں کر دیا اور اسلام کو ایسا غلبہ عطا کیا جس غلبے کا کوئی شخص انکار ہی نہیں کر سکتا یہ ہے کہ آپ نے بڑے زور سے دشمنان اسلام کے سامنے یہ بات پیش کی کہ مذہب کی اصل غرض اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا ہے- پس وہی مذہب سچا ہو سکتا ہے اور موجودہ زمانے میں خدا تعالیٰ کا پسندیدہ دین کہلا سکتا ہے جو بندے کا اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرا سکے اور اس تعلق کے آثار دکھا سکے، ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں چھوٹی سے چھوٹی چیز کا بھی کوئی نہ کوئی اثر ہوتا ہے- آگ اگر جسم کو لگتی ہے یا اس کے پاس ہی ہم بیٹھتے ہیں تو جسم یا جل جاتا ہے یا گرمی محسوس کرتا ہے پاتی ہم پیتے ہیں تو فورا ہماری اندرونی تپش کے زائل ہو جانے کے علاوہ ہمارے چہرہ سے بشاشت اور طراوت کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں عمدہ غذا کھائیں تو جسم فربہ ہونے لگ جاتا ہے ورزش کرنے لگیں تو جسم میں مضبوطی پیدا ہو جاتی ہے اور تاب وتوانائی حاصل ہوتی ہے اسی طرح دوائوں کا اثر ہوتا ہے کہ بعض دفعہ مضر اور بعض دفعہ مفید پڑتا ہے مگر یہ عجیب بات ہو گی اگر اللہ تعالیٰٰ کا تعلق بالکل بے اثر ثابت ہو! عبادات کرتے کرتے ہماری ناکیں گھس جائیں اور روزے رکھتے رکھتے پیٹ پیٹھ سے لگ جائیں، زکوۃ وصدقات دیتے دیتے ہمارے اموال فنا ہو جائیں لیکن کوئی تغیر ہمارے اندر پیدا نہ ہو اور ان کاموں کا کوئی نتیجہ نہ نکلے- اگر یہ بات ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے تعلق کا فائدہ کیا اور اس کی ہمیں حاجت کیا؟ ایک ادنیٰ حاکم سے ہمارے تعلق کی علامت تو ظاہر ہو جاتی ہے کہ اس کے دربار میں