انوارالعلوم (جلد 7) — Page 359
۳۵۹ بھی کسی کا نہیں خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول نقل کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں۔یَصِیْرُالْمُرِیْدُ جُزْئَ الشَّیْخِ کَمَا اِنَّ الْوَلَدَ جُزْئُ الْوَالِدِ فِیْ الْوِلَادَۃِالطَّبْعِیَّۃِ وَتَصِیْرُ ھٰذِہٖ الْوِلَادَۃُ اٰنِفًا وِلَادَۃً مَعْنَوِیَّۃً کَمَا وَرَدَ عَنْ عِیْسٰی صَلَوٰتُ اللہِ عَلَیْہِ لَنْ یَلِجَ مَلَکُوْتَ السَّمَآءِمَنْ لَّمْ یُوْلَدْ مَرَّتَیْنِ فَبِالوِلَادَۃِ الْاُوْلٰی یَصِیْرُ لَہٗ اِرْتِبَاطٌ بِعَالَمِ الْمَلَکِ وَبِھٰذِہٖ الْوِلَادَۃِ یَصِیْرُ لَہٗ اِرْتِبَاطٌ بِالْمَلَکُوْتِ۔قَالَ اللہُ تَعَالٰی وَکَذٰلِکَ نُرِیْٓ اِبْرَاھِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ المُوْقِنِیْنَ (عوارف المعارف مؤلفہ شیخ شہاب الدین سہروردی جزاوّل صفحہ ۴۵)یعنی مُرید شیخ کا جزو ہو جاتا ہے جس طرح ولادت طبعی میں بیٹا باپ کا جزو ہو تا ہے اور یہ ولادت اس وقت ولادتِ معنوی ہو جاتی ہے جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے روایت ہے کہ کوئی شخص آسمان کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ دودفعہ پیدا نہ ہو، پھر شیخ اپنی طرف سے فرماتے ہیں کہ پہلی ولادت سے تواُسے طبعی دنیا سے تعلق پید اہو جاتا ہے اور دوسری ولادت سے اسے روحانی دنیا سے تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰٰ بھی فرماتا ہے کہ اسی طرح آسمان ااور زمین پر جو غلبہ ہمیں حاصل ہے ہم ابراہیم کو دکھا تے تھے تا کہ وہ یقین کرنے والے لوگوں میں سے ہو جائے۔اِنْتَہٰی قَوْلُ الشَّیْخِ۔مذکورہ بالا عبارت سے ظاہر ہے کہ شیخ شہاب الدین صاحب سہر و ردی کے نزدیک ہر انسان کے لئے ایک ولادتِ معنوی ضروری ہے اور وہ اس کی تائید میں ایک تو قرآن کریم کی آیت پیش کرتے ہیں اور دوسرے حضرت مسیح کا ایک قول پیش کرتے ہیں۔پس جب ولادتِ معنوی ایک ضروری شے ہے اور حضرت مسیح اسے روحانی ترقی کے لئے ضروری قرار دیتے ہیں تو کیا مثیل مسیح کے لئے ہی اس ولادت کا وجود محال اور ناممکن ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت مسیح کا دوبارہ زندہ ہو کر آنا اللہ تعالیٰ کی شان اور اس کے کلام کے خلاف ہے اور اس کے رسول کی عظمت کے منافی ہے اور اس کی باتوں کے صریح مخالف ہے اورجن باتوںپر اس عقیدے کی بناء رکھی گئی ہے وہ قلّتِ تدبّر سے پیدا ہوئی ہیں اور کمیٔ فکر کا نتیجہ ہیں۔اصل بات یہی ہے کہ اسی امت میں سے ایک شخص کو مسیح کے رنگ میں رنگین ہو کر آنا تھا اور وہ آبھی چکا اور اس کے فیض سے بہتوں نے ہدایت پائی اور بہت گم گشتہ راہ سیدھے راستہ پر آگئے۔چوتھا اعتراض ہم پر یہ کیا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سلسلۂ وحی اور سلسلۂ نبوت کو جاری سمجھتے ہیں۔یہ اعتراض بھی یا تو قلتِ تدبر کا نتیجہ ہے یا عداوت و دشمنی کا۔اصل