انوارالعلوم (جلد 7) — Page 16
۱۶ تک اس پر عمل نہ کیا جائے مگر دین کے معاملہ میں لوگوں میں یہ غلط خیال پایا جاتا ہے کہ کسی دینی بات کا سمجھ لینا ہی کافی ہے۔حالانکہ لوگ دنیا کے کسی معاملہ میں یہ کافی نہیں سمجھتے۔جب دنیا کے معاملات ہی میں محض علم ہونا کافی نہیں ہو تا تو دین کے معاملہ میں کس طرح کافی ہوسکتا ہے؟ دینی بات کا صرف سمجھ لینا کافی نہیں پس یہ غلط خیال ہے کہ ہم نے فلاں بات کو سمجھ لیا ہے اوریہی کافی ہے۔دین کے معاملہ میں اکثرلوگ تودین سے واقف ہی نہیں ہوتے اور جو واقف ہوتے ہیں ان میں سے بھی ا کثر صرف سمجھ لیناکافی سمجھتے ہیں جو بڑی خطرناک غلطی ہے۔دیکھو یہ مان لینا کہ خدا تعالیٰ ایک ہے اس کی طرف سے رسول آتے ہیں اس زمانہ میں اس نے حضرت مسیح موعودؑ کو بھیجایہ تو علم ہے مگر کیا صرف یہ مان لینے سے کوئی خدا کا مقرب بن سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔جس طرح یہ معلوم ہو جانے سے کہ ہسٹیر یا ایک مرض ہے وہ مرض دور نہیں ہو سکتی ،جس طرح یہ سمجھ لینے سے کہ تھرما میٹر بخار معلوم کرنے کا آلہ ہے بخار کا درجہ معلوم نہیں ہو سکتا اور جس طرح یہ پتہ لگ جانے سے کہ کونین سے بخار اتر جاتا ہے بخار نہیں دور ہو سکتا اسی طرح حضرت مسیح موعود ؑکو صرف مان لینے سے نجات نہیں ہو سکتی جب تک آپؑ کے احکام پر بھی عمل نہ کیا جائے۔خدا تعالی ٰکو واحد ماننا کافی نہیں ہو سکتا جب تک اس کے ملنے کے راستہ پر عمل نہ کیا جائے' رسول کریم لا کو ماننے سے فائدہ نہیں ہو سکتا جب تک آپ ؑکے احکام پر عمل نہ کیا جائے اور حضرت مسیح موعود ؑکو مان لینے سے فائدہ نہیں ہو سکتا جب تک آپ ؑکے احکام بھی نہ مانے جائیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ خدا تعالیٰ کو واحد ماننا، رسول کریم ﷺکی صداقت کا اعتراف کرنا اور حضرت مسیح موعودؑ پر ایمان لانا بے فائدہ ہے یہ بھی بڑے کام کی چیز ہے اور بہت اعلیٰ درجہ کی نعمت ہے مگر میں یہ کہتا ہوں کہ صرف اتنا ہی کافی نہیں جب تک ایمان کے ظہور کی علامات نہ ہوں اس وقت تک انسان مومن نہیں ہو سکتا۔علم کے مطابق عمل بھی کرو اس لئے سب سے پہلی نصیحت تو میں آپ لوگوں کو یہ کرنا چاہتا ہوں کہ جب خدا نے آپ لوگوں کو ایمان دیا ہے یعنی علم دیا ہے تو اس علم کے مطابق عمل بھی کریں۔جیسے ہسٹیر یا والے کو جب معلوم ہو جائے کہ یہ بیماری ہے تو اس کا علاج کرے گا، بخار والے کو جب معلوم ہو جائے کہ کونین اس کے لئے مفید ہے تو وہ کو نین کھاۓ گا اسی طرح انسان کو جب اپنی روحانی بیماری کا احساس ہو جائے اور اس کا