انوارالعلوم (جلد 7) — Page 288
۲۸۸ بإلشویک علاقہ میں احمدیت کی تبلیغ امت میں سے ایک شخص آجائے گا۔اس پر میں نے کہا کہ یہ عقیدہ تو ہندوستان میں ایک جماعت جو مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو مانتی ہے اس کا ہے اس پر ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ بھی اسی کے ماننے والے ہیں۔فتح محمد صاحب نے جب یہ باتیں اس نو احمدی سے سنیں تو دل میں شوق ہوا کہ وہ اس امرکی تحقیق کریں۔اتفاقاً کچھ دنوں بعد ان کو بھی آگے جانے کا حکم ہوا۔اور وہ روسی عشق آباد میں گئے۔وہاں انہوں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ کیا یہاں کوئی احمدی لوگہیں۔لوگوں نے صاف انکار کیا کہ یہاں اس مذہب کے آدمی نہیں ہیں۔جب انہوں نے یہ پوچھا کہ عیسی علیہ السلام کو وفات یا فتہ ماننے والے لوگ ہیں تو انہوں نے کہا کہ اچھا تم صابیوں کا پوچھتے ہو وہ تو یہاں ہیں چنانچہ انہوں نے ایک شخص کا پتہ بتایا کہ وہ درزی کا کام کرتا ہے اور پاس ہی اس کی دوکان ہے۔یہ اس کے پاس گئے اور اس سے حالات دریافت کئے اس نے کہا کہ ہم مسلمانہیں یہ لوگ تعصب سے ہمیں صابی کہتے ہیں جس طرح رسول کریم ﷺ کے دشمن ان کے ماننے والوں کو صابی کہتے تھے۔انہوں نےبوجہ مخالفت پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ اس امر پر ایمان رکھتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور ان کی مماثلت پر ایک شخص اسی امت کا مسیح موعود قرار دیا گیا ہے اور وہ ہندوستان میں پیدا ہوگیا ہے اس لئے یہ لوگ ہمیں اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔شروع میں ہمیں سخت تکالیف دی گئیں روسی حکومت کو ہمارے خلاف رپورٹیں دی گئیں کہ یہ باغی نہیں ہیں اور ہمارے بہت سے آدمی قید کئے گئے لیکن تحقیق پر روسی گورنمنٹ کو معلوم ہوا کہ ہم باغی نہیں ہیں بلکہ حکومت کے وفادار ہیں تو ہمیں چھوڑ دیا گیا۔اب ہم تبلیغ کرتے ہیں اور کثرت سے مسیحیوں اور یہودیوں میں سے ہمارے ذریعہ سے اسلام لائے ہیں لیکن مسلمانوں میں سے کم نے مانا ہے زیادہ مخالفت کرتے ہیں۔جب اس شخص کو معلوم ہوا کہ فتح محمد صاحب بھی اسی جماعت میں سے ہیں تو بہت خوش ہوا سلسلہ کی ابتداء کا ذکراس نے اس طرح سنایا کہ کوئی ایرانی ہندوستان گیا تھا وہاں اسے حضرت مسیح موعود کی کتب ملیں وہ ان کو پڑھ کر ایمان لے آیا اور واپس آکر یزد کے علاقے میں جو اس کا وطن تھا اس نے تبلیغ کی کئی لوگ جو تاجروں میں سے تھے ایمان لائے وہ تجارت کے لئے اس علاقہ میں آئے اور ان کے ذریعہ سے ہم لوگوں کو حال معلوم ہوا اور ہم ایمان لائے اور اس طرح جماعت بڑھنے لگی۔یہ حالات فتح محمد صاحب مرحوم نے لکھ کر مجھے بھی چونکہ عرصہ زیادہ ہوگیا ہے اب اچھی طرح یاد نہیں کہ واقعات اسی ترتیب سے ہیں یا نہیں لیکن خلاصہ ان واقعات کا یہی ہے گوممکن