انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 287

۲۸۷ بإلشویک علاقہ میں احمدیت کی تبلیغ بسم الله الرحمن الرحیم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھو الناصر بالشویک علاقہ میں احمدیت کی تبلیغ ۱۹۱۹ ء کا واقعہ ہے جسے میں پہلے بھی بعض مجالس میں بیان کر چکا ہوں کہ ایک احمدی دوست اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے جو انگریزی فوج میں ملازم تھے اپنی فوج کے ساتھ ایران میں گئے وہاں سے بالشویکی فتنہ کی روک تھام کے لئے حکام بالا کے حکم سے ان کی فوج روس کے علاقہ میں گھس گئی اور کچھ عرصہ تک وہاں رہی۔یہ واقعات عام طور پر لوگوں کو معلوم نہیں ہیں کیونکہ اس وقت کے مصالح یہی چاہتے تھے کہ روسی علاقہ میں انگریزی فوجوں کی پیش دستی کو مخفی رکھا جائے۔اس دوست کا نامفتح محمد تھا اور یہ فوج میں نائک تھے ان کی تبلیغ سے ایک اور شخص فوج میں احمدی ہو گیا اور اس کو ایک موقع پر روسی فوجوں کی نقل و حرکت کے معلوم کرنے کے لئے چند سپاہیوں سمیت ایک ایسی جگہ کی طرف بھیجا گیا جو کیمپ سے کچھ دور آگے کی طرف تھے۔وہاں سے اس شخص نے فتح محمد صاحب کے پاس آکر بیان کیا کہ ہم لوگ شہر سے باہر ایک گنبد کی شکل کی عمارت میں رہتے تھے۔جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ اس عمارت کے اندر ایسے آثار ہیں جیسے مساجد میں ہوتے ہیں لیکن کرسیاں بچھی ہوئی ہیں۔جو لوگ وہاں رہتے تھے ان سے میں نے پوچھا کہ یہ جگہ تو مسجد معلوم ہوتی ہے پھر اس میں کرسیاں کیوں بچھی ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ مبلّغ ہیں اور چونکہ روسی اور یہودی لوگ ہمارے پاس زیادہ آتے ہیں وہ زمین پر بیٹھنا پسند نہیں کرتے اس لئے کرسیاں بچھائی ہوئی ہیں۔نماز کے وقت اٹھادیتے ہیں۔ان سے پوچھا کہ آپ لوگ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم مسلمان ہیں۔اس پر اس دوست کا بیان ہے کہ مجھے خیال ہوا کہ چونکہ یہ مذہبی آدمی ہیں میں ان کو تبلیغ کروں چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان لوگوں کو کہا کہ آپ لوگوں کا کیا خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں یا فوت ہوگئے ؟ انہوں نے کہا کہ جس طرح اور انبیاؑء فوت ہو گئے ہیں اسی طرح وہ فوت ہو گئے ہیں۔اس پر میں نے پوچھا کہ ان کی نسبت تو خبر ہے کہ وہ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔انہوں نے کہا کے ہاں اسی۔