انوارالعلوم (جلد 7) — Page 262
۲۶۲ بسم الله الرحمن الرحيم محمد صلی علی رسوله الكريم مجاہدین علاقہ ارتداد سے خطاب (فرموده ۱۰- جولائی ۱۹۲۳ء بمقام مسجد مبارک قادیان) پچھلا طریق یہی رہا ہے کہ جو دوست ملکانا کے علاقہ میں تبلیغ کے لئے جاتے رہے ہیں ان کو گاوں سے باہر جا کر وداع کیا جاتا رہا ہے۔آج بھی یہی ارادہ تھا لیکن ظہر کی نماز کے بعد مجھے بخار کی تکلیف ہو گئی گو کو تین کھانے سے اس وقت کچھ افاقہ ہے کیونکہ مجھے بہت تیز بخار ہوا کرتا ہے اور اب اتنی تیزی نہیں ہے لیکن احتیاطاً یہی مناسب سمجھا گیا کہ اس مسجد میں ہی دعا کر کے جانے والوں کو رخصت کر دیا جائے۔اس میں شبہ نہیں سنت طریق یہی ہے کہ باہر جا کر رخصت کیا جائے۔مجھے رسول کریم ﷺ کے متعلق تو اس وقت کوئی ایسا واقعہ یاد نہیں کہ رخصت کرنے کے لئے آپ باہر تشریف لے گئے ہوں مگر خلفاء کے متعلق یاد ہے کہ وداع کرنے کے لئے باہر جاتے تھے اور کوئی عجب نہیں کہ رسول کریم اﷺکا بھی کوئی واقعہ معلوم ہو جائے۔یہ ایک ضروری اور بابرکت امر ہے مگر میں سمجھتا ہوں آج باہر نہ جانے سے جو کمی ہوگی وہ اس مسجد کی برکت سے پوری ہو جائے گی کیونکہ حضرت مسیح موعودؑ کا اس مسجد کے متعلق الہام ہے کہ جو کام اس میں کیا جائے گا وہ بابرکت ہو گا اس لئے باہر جا کر رخصت کرنا جو صحابہ اور خلفاء کی سنت ہے اس پر آج عمل نہ کرنے سے جو کسر رہ جائے گی وہ اس مسجد میں وداع کرنے کی برکت سے دور ہو جائے گی۔میں نے وہاں کام کرنے والوں کے لئے کچھ ہدایات لکھی ہیں امید ہے کہ وہ آپ لوگوں کو مل گئی ہوں گی اور آپ ان پر عمل کریں گے۔میں نے پچھلے وفد کو بتلایا تھا کہ بعض باتیں بہت معمولی معلوم ہوتی ہیں لیکن ان کے نتائج بہت بڑے نکلتے ہیں اور بعض بڑی ہوتی ہیں اور ان کے نتائج بہت معمولی ہوتے ہیں مگر بہت چھوٹی چھوٹی باتوں سے قومیں تباہ ہو جاتی ہیں اور بہت چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑھ جاتی ہیں۔بعض دفعہ ایک لفظ منہ سے نکلا ہوا ایک قوم کو ترقی کے کمال پر پہنچادیتا