انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 263

۲۶۳ ہے اور بعض دفعہ ایک لفظ نکلا ہواہلاکت کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔بعض دفعہ ایک خیال انسان کی نجات کے لئے کافی ہو جاتا ہے اور ایک خیال اس کی تباہی کا باعث بن جاتا ہے تو چھوٹی چھوٹی باتوں کے ثمرات بہت بڑے بڑے نکلتے ہیں۔انسان سمجھتاہے فلاں بات کا کیا نتیجہ نکلے گایا سمجھتا ہے معمولی نتیجہ نکلے گامگرنہ اس کا نتیجہ معمولی ہوتا ہے اور نہ وہ بے نتیجہ ہوتی ہے۔پس کسی بات کے متعلق یہ خیال نہ کرو کہ معمولی ہے۔میں نے بعض لوگوں کو حیرت سے کہتے سنا ہے اور مجھے ان کی حیرت پر حیرت آتی تھی مگر ان کے علم اور عقل کو دیکھ کر دور ہو جاتی تھی۔وہ حیرت سے پوچھتے کہ ٹریننگ سکول میں کیا سکھلاتے ہیں؟ وہاں بچوں سے بعض خاص سلوک کرنے سکھائے جاتے ہیں طرز تعلیم بتائی جاتی ہے اس کے لئے بعض ایسی موٹی موٹی باتیں ہوتی ہیں کہ کوئی کہہ سکتا ہے ان سے کیا نتیجہ نکل سکتا ہے مگر وہ بہت مفید ہوتی ہیں اور ان سے بہت اعلیٰ نتائج نکلتے ہیں۔اسی طرح صحت کے متعلق ہم دیکھتے ہیں بہت چھوٹی چھوٹی باتیں اس کے لئے سخت نقصان رساں ثابت ہوتی ہیں۔مثلاً پنجابیوں کو اگر کہا جائے گھر میں ہر جگہ نہیں تھوکنا چاہے تو وہ کہیں گے اس میں کیا حرج ہے اور پنجاب میں تو ایک مثل بھی ہے جو لوگوں کی پہلی حالت کا خوب نقشہ کھینچتی ہے کہتے ہیں ’’پرایا گھر تھکنے دا بھی ڈر‘‘ یعنی دوسرے کے گھر میں تھوکتے ہوئے بھی ڈر آتا ہے گویا ان کے نزدیک یہ بہت معمولی بات ہے حالانکہ سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ تھوکناسخت خطرناک ہے اور اپنے گھر میں بھی نہیں تھوکنا چاہئے۔مگر ان کے خیال میں یہ تھا کہ اپنے گھر میں تو جتنا کوئی چاہے پاخانہ بھرے مگر دوسرے کے گھر نہیں تھوکنا چا ہئے۔کیونکہ ممکن ہے اس نہایت معمولی سی بات پر وہ ناراض ہو جائے حالانکہ تھوکنا نہایت خطرناک اور سخت مضر ہے۔لاکھوں ایسے انسان ہوتے ہیں جن کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ مسلول ہیں اور نہ دوسروں کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کو سل ہے مگر ان میں کیڑے ہوتے ہیں جو ان کی عمدہ صحت کی وجہ سے ان پر اپنا اثر نہیں کر سکتے مگر ان کے جسم سے نکل کر اوروں پر جواِن جیسے مضبوط نہیں ہوتے حملہ کر سکتے ہیں۔قادیان میں ہی ایسے واقعات ہو چکے ہیں کہ ایک شخص کی ایک بیوی کو سل ہوئی وہ فوت ہو گئی۔پھر دوسری آئی اس کو بھی سل نہ تھی نہ اس کے خاندان میں کسی کو سلِ تھی مگر خاوند کے ہاں آکروہ مسلول ہو گئی اور مرگئی۔پھر تیسری آئی اس کو بھی سل ہو گئی۔ایسے لوگوں کو جرمزکیریر ( GERMS CARRIER کہتے ہیں ان کی اپنی صحت تو اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ ان پر جر مزاثر نہیں کر سکتے مگر وہ تھوک کے ذریعہ دوسروں تک پہنچادیے ہیں۔