انوارالعلوم (جلد 7) — Page 235
۲۳۵ بات صاف صاف کہہ دے کہ مددسے مراد میری چندہ نہیں بلکہ اخلاقی اور مشورہ کی مدد ہے۔تاکہ وہ پہلے ہی ڈر نہ جائے۔اگر کوئی شخص مالی مدد دینا بھی چاہے تو شروع میں مدد لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیں کہ ابھی آپ مجھ سے اور ہمارے کام سے واقف نہیں جب واقف ہو کر اسے مفید سمجھیں گے اور ہم لوگوں کو دیانتدار پاویں گے تب جو مدد اس کام کے لئے آپ دیں گے اسے ہم خوشی سے قبول کر لیں گے۔اگر وہ غیر مسلم ہوں تب بھی ان سے تعلقات دنیاوی پیدا کرنے کی کوشش کرے کہ میل ملاقات کا بھی ایک لحاظ ہوتا ہے۔۱۲- کوئی مالی مدد دے تو اسے اپنی ذات پر نہ خرچ کرے بلکہ اس کی رسید با قاعدہ دے اور پھر اصل رسید مرکزی حلقہ سے لا کر دے تالوگوں پر انتظام کی خوبی اور کارکنوں کی دیانتداری کا اثر ہو۔۱۳- سادہ زندگی بسر کرے اور اگر کوئی دعوت کرے تو شرم اور حیا سے کھانا کھاوے کوئی چیز خود نہ مانگے اور جہاں تک ہو سکے دعوت کرنے والوں کو تکلف سے منع کرے اور سمجھاوے کہ میری اصل دعوت تو میرے کام میں مدد کرنا ہے۔مگر مستقل طور پر کسی کے ہاں بِلا قیمت ادا کرنے کے نہ دکھاوے۔۱۴- دورہ کرتے وقت جو جو لوگ اسے شریف نظر آویں اور جن سے اس کے کام میں کوئی مددمل سکتی ہے ان کا نام اور پتہ احتیاط سے اپنی نوٹ بک میں نوٹ کرے تا بعد میں آنے والے مبلغوں کے لئے آسانی پیدا ہو۔۱۵۔جن لوگوں سے اسے واسطہ پڑتا ہے خصوصاً افسروں بڑے زمینداروں یا اور دلچسپی لینے والوں کے متعلق غور کرے کہ ان سے کام لینے کا کیاڈھب ہے اور خصوصیت سے اس امر کو اپنی پاکٹ بک میں نوٹ کرے کہ کس کس میں کون کون سے جذبات زیادہ پائے جاتے ہیں جن کے ابھارنے سے وہ کام کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔۱۶۔جن لوگوں سے کام لینا ہے ان میں سے دو ایسے شخصوں کو کبھی جمع نہ ہونے دو جن میں آپس میں نِقار ہو۔اور اس کے لئے ضروری ہے کہ وہاں کے لوگوں سے ہوشیاری سے دریافت کر لو کہ ان معززین کی آپس میں مخالفت تو نہیں اگر ہے تو کس کس سے ہے جن دو آدمیوں میں مقابلہ اور نِقار ہو۔ان کو اپنے کام کے لئے کبھی جمع نہ کرو بلکہ ان سے الگ الگ کام لو اور کبھی ان کو محسوس نہ ہونے دو کہ تم ایک سے دوسرے کی نسبت زیادہ تعلق رکھتے ہو