انوارالعلوم (جلد 7) — Page 179
۱۷۹ والوں کی جانب سے نظر آوے۔اور سب سے زیادہ تکالیف وہ انہیں کی طرف سے پاویں۔ہم تکالیف سے نہیں ڈرتے ہم دشمنی کی پرواہ نہیں کرتے۔ہم نے کب پہلے کسی مولوی یا سجادہ نشین یا لیڈر کی مخالفت کی پرواہ کی کہ اب اس کی پرواہ کریں گے لیکن اس وقت سوال نہایت نازک ہے۔جب ایک ایک آدمی کا سوال ہوتا ہے۔جب مستقبل اپنی وسعت کے ساتھ ہمارے سامنے ہوتا ہے ہم کسی کی مخالفت کی پرواہ نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ آج نہیں کل ہم غالب آجاویں گے۔زمانہ ہمارے سامنے پڑا ہے گھبرانے کی ضرورت نہیں لیکن اس وقت جس امر کی فکر ہے وہ یہ ہے کہ ایک خاص قوم ایک قلیل عرصہ میں اسلام کو ترک کر کے ہندومذہب کو اختیار کرنے والی ہے۔بے شک وہ ہماری جماعت میں سے نہیں اس کا اپنے رسمی اسلام کو چھوڑ دینانہ ہمارے لئے موجب عار ہے اور نہ ہمارے کاموں میں روک۔لیکن پھر بھی ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اب وہ اپنے آپ کو غلامانِ اسلام میں سے سمجھتی ہے اور پھر اسلام اور سردار اسلام کو گالیاں دے گی۔یہ اشتراک ہمیں اس درد سے علیحدہ نہیں رکھ سکتا اور ہم ڈرتے ہیں کہ اگر اس میدان میں ہمارے پہنچنے سے تفرقہ وشقاق کی بنیاد رکھی جاتی ہے تو بہتر ہے کہ ہم دورہی رہیں تاہو تا ہوا کام بھی رک نہ جانے اور بجائے فائدہ کے نقصان نہ ہو۔اگر ہمارے جانے پر مولوی صاحبان بجائے خوش ہونے کے ان لوگوں کو یہ تلقین کرنے لگیں کہ ان کی بات ماننے سے تو ہندو ہو جا نا زیادہ اچھا ہے۔یا یہ کہ ہمارے مبلّغوں کو اپنی طرف الجھالیں اور ادھر ادھر کی بحثوں پر مجبور کردیں تو اس کا نہایت سخت خطرناک اثر پڑے گا اور اس قوم کی ہلاکت میں کوئی شبہ باقی نہ رہے گا۔میں اس واقعہ کو نہیں بھول سکتا کہ ۱۹۱۳ء میں دیو سماجیوں نے فیروز پور میں خدا کے ماننے والوں کا ناک میں دم کیا ہوا تھا۔وہاں کی احمدیہ جماعت نے مجھے لیکچر کے لئے بلوایا اور میرا لیکچر خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت میں تھا۔ایک صاحب نے بیس دن تک محلّوں میں لیکچر دیا کہ اس کے لیکچر کوسننے نہ جانا۔پھر خیال کر کے کہ اب اس قدر تاکید کے بعد کون مسلمان لیکچروں میں جاوے گاخولیکچر کو سننے کے لئے آگئے۔جب کسی نے پوچھا کہ مولانا یہ کیا؟ تو کہنے لگے کہ میں تردید کی خاطرلیکچر کے نوٹ لینے آیا ہوں۔اس سوال پر کہ لیکچر تو اس بات پر ہے کہ خدا تعالیٰ کا وجود ثابت ہے اور اس کے منکر جھوٹے ہیں کیا آپ اس کی تردید کریں گے ؟ ایسے دم بخود ہوئے کہ کاٹو تو لہو نہیں بدن میں- یہی حال ملکانہ قوم کے قصبات میں نہ ہو۔تبلیغ کے مختلف طریق ہوتے ہیں۔ان میں تبلیغ کرتے ہوئے کئی باتیں ایسی ہو سکتی ہیں جو غیراحمدی علماء کے نقطہ خیال کے مخالف ہوں گی۔میں ڈرتا ہوں کہ وہ