انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 178

۱۷۸ اس وقت وہاں تھے۔وہ مسجد کئی لاکھ روپیہ کے خرچ سے بنائی گئی تھی اور بڑی شاندار تھی۔مفتی صاحب نے اس کی آبادی کی کوشش کی اور وہ مسجد بہت آباد ہو گئی۔کچھ عرصہ کے بعد لوگوں میں احمدیت کا پورا اکھاڑ پھینکنے کی لہر پیدا ہوئی۔مسجد بنانے والوں اور بعض دوسرے لوگوں نے مفتی صاحب کی سخت مخالفت شروع کردی آخر ان کو وہ جگہ چھوڑنی پڑی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب مقناطیس نہ رہا تو لوہا پھر لوہے کا لوہا ہو گیا۔لوگوں نے مسجد میں آنا چھوڑ دیا نمازیں چھٹ گئیں اب ایک مشہور مسیحی رسالہ مسلم ورلڈ میں ہنسی اُڑائی گئی ہے کہ ڈیٹرائٹ کی بہت بڑی مسجد کے متعلق اس کے بنانے والوں نے اعلان کردیا ہے کہ چونکہ مفتی صاحب کے چلے جانے کے بعد وہ مسجد ویران ہو گئی ہے اس لئے مجبورا ہم نے فیصلہ کر دیا ہے کہ چونکہ مسجد کا مسجد کی صورت میں بیچنا مناسب نہیں ہے اس لئے مسجد کو گرا کر اس کی زمین فروخت کردیں۔جب مفتی صاحب کام کرتے تھے اور محمد آباد تھی تب تو امت کے جرم میں ان کا مقابلہ کیا گیا ان کو تنگ کیاگیا اور وہاں سے چلے جانے پر مجبور کیا گیا لیکن جب مسجد ویران ہو گئی تو احمدی کارکنوں کی قدر معلوم ہوئی۔اور پھر بھی یہ نہیں کیا کہ ان کو کام کے لئے بلایا جاتا بلکہ خانہ خدا کو گرا کر مسیحیوں کے پاس فروخت کردینے کا اعلان کردیا۔اب خواہ وہاں شراب خانہ یاجوئے خانہ ہی کوئی کیوں نہ بتادیں۔کانپور کی مسجد کے کل خانہ پر اس قدر شور تھا اب اپنے ہاتھوں ایک مسجد کو گرا کر فروخت کرنے کی تجویز ہے۔امریکہ میں اسلام کو جو فتوحات حاصل ہو رہی ہیں جس طرح سینکڑوں آدمی اسے قبول کررہے ہیں اس حال کو جس جلے دسے مسلمان کہلانے والے پڑھتے ہیں کیونکہ یہ سب کچھ احمدیوں کے ہاتھ سے ہو رہا ہے وہ اس سے ظاہر ہے کہ احمدی رپورٹوں کو تو سوائے ایک دو اخبارات کے کسی نے بھولے سے شائع نہیں کیا لیکن ہمارے رسالہ ہے جو امریکہ سے شائع ہوتا ہے اور باقاعدہ افغانستان میں جاتا ہے امان افغان نے اگر یہ خبر لکھ دی کہ امریکہ میں مبلغین اسلام کے ذریعہ کثرت سے مسیحی مسلمان ہو رہے ہیں تو جھٹ زمیندار جیسے پرچہ نے بھی اس کو شائع کر دیا۔گویا احمدیت کانام ہی ایسا تلخ تھاکہ ان اخبار کے شائع کرنے میں روک تھا۔فتنہ ارتداد کے متعلق ہمارا درد جب بغض اس قدر بڑھا ہوا ہے اور جب دل اس قدر پھٹے ہوئے ہیں تو ہمیں کیا تسلی ہوسکتی ہے کہ جس وقت ہمارے مبلّغ اس علاقہ میں جاویں۔اس وقت سب سے زیادہ دشمنی ان کو خود مسلمان کہلانے