انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 160

۱۶۰ بھی اسی کے ماتحت ہے کہ ان کا کیا اثر ہوتا ہے۔اسی طرح بارشوں اور ہواؤں کا علم معلوم ہو جاتا ہے۔اس علم میں یہ بحث بھی کی جاتی ہے کہ پتھروں کی کیا قسمیں ہیں۔کس طرح ان کے خواص معلوم ہوتے ہیں۔کن حالات میں ان کی قیمتوں کا اندازہ ہوتا ہے۔عام پتھر سے لے کر ہیرے کا بحث آجاتی ہے۔پیدائش ِاجسام و علم الاقدام ۵۴ واں علم، پرائمی ٹالوجی۔پیدائش ابتدائی کا علم ہے اس میں اس بات پر بحث ہوگی کہ پہلے پیدائش کس طرح پر ہوئی پھر اس میں آگے چل کر اس پر بحث ہوگی کہ نباتات کس طرح پیدا ہوئی۔شروع ہی سے آم یا امرودتھے یا یہ کوئی اور پھل تھے اور ترقی کرتے کرتے آم او را مرود ہو گئے ؟ نباتات کی ابتدائی پیدائش کے ماہر کہتے ہیں کہ پہلے سبزہ ذرہ سا تھا پھر اس سے ترقی کرتے کرتے اس کی شاخیں ہوئیں پھرشاخ درشاخ سلسلہ چلا گیا اور ہزاروں لاکھوں قسمیں ہو گئیں جیسے آدم کی اولاد ایک تھی پھر کوئی کہیں چلا گیا اور کوئی کہیں۔کوئی گورا ہو گیا اور کوئی کالا۔اسی طرح نباتات کے متعلق کہتے ہیں کہ ابتداء میں ایک ذرہ سا تھا پھراسی علم کے ماتحت جانوروں کے متعلق بحث ہوتی ہے اور پھر ان کی موٹی تقسیم دو طرح کی ہے۔ظہری اور غیر ظہری یعنی وہ جن کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے اور وہ جن کی ریڑھ کی ہڈی نہیں ہوتی۔پھر اس ترقی کے مدارج پر بحث ہے کہ کس کس طرح ترقی ہوئی۔۵۵ واں علم ، بایو لوجی ،یعنی حیات جسمانی کا علم ہے۔جسم کی زندگی پر اس علم کے ذریعہ بحث ہوتی ہے۔مثلاً ہاتھ حرکت کرتا ہے وہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس میں ایک حیات ہے روح ایک الگ چیز ہے جس میں ایک حیات ہوتی ہے پھر اسی حیات کے بھی مدارج ہوتے ہیں۔یہ ایک بہت باریک اور وسیع علم ہے۔علم الارتقاء میں اس پر بحث ہوگی۔کس طرح پر ایک جانور سے دوسرا بن جاتا ہے۔علم الارتقاء کے ماہرین کہتے ہیں کہ انسان ایک کیڑا ہوتا ہے وہی ترقی کرتے کرتے کوئی بندر بن گیا اور کوئی کچھ اور۔پھر آخر ترقی کرتے کرتے انسان بن گیا۔یہ لوگ ایک نیا سلسلہ چلاتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ ترقی کرتے کرتے وہ کیڑا بند ربنا اور پھر اس سے ترقی