انوارالعلوم (جلد 7) — Page 93
۹۳ نجات (۵) ایسے لوگوں کے اخلاق بہت بگڑ جاتے ہیں۔اب بھی دیکھو جن لوگوں کو احمدیوں میں سے ابتلاء آیا ہے ان میں یہ سب باتیں پائی جاتی ہیں۔ہم انہیں کچھ کہیں یا نہ کہیں وہ ہمیں گالیاں دیتے جاتے ہیں۔میں اگر کچھ لکھوں تو بھی مولوی محمد علی صاحب گالیاں دینے لگ جاتے ہیں اور اگر نہ لکھوں تو بار بار چھیڑتے ہیں کہ بولتا کیوں نہیں؟ اس آیت سے یہ بھی نتیجہ ہے کہ ایسا بھی مقام ہے کہ جہاں شیطان نہیں پہنچ سکتا مگر نفس وہاں بھی ساتھ جاتا ہے۔حقیقی نجات نجات حقیقی کے متعلق قرآن کریم کہتا ہے قل إن صلاتي ونسكي ومحیاي ومماتی لله رب العلمین۔اے محمدﷺ تو کہہ دے کہ میری نماز، میری قربانی ،میری زندگی ،میری موت سب اللہ ہی کے لئے ہے جو رب العالمین ہے۔میرا ان میں کوئی دخل نہیں۔یہ حقیقی نجات ہے۔پہلی آیت سے پتہ لگتا ہے کہ نفس نیچے لانے والا ہوتا ہے مگر یہاں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سب کچھ خدا کا ہی ہو جاتا ہے حتیٰ کہ نفس بھی اپنا نہیں رہتا- یہی مقام ہر انسان کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ نفس سے کیا مراد ہے۔نفس کالفظ جو برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اس سے مراد وہ ملکہ بدی کا ہے جو بدیاں کر کر کے انسان کے اندر پیدا ہو جاتا ہے ورنہ نفس جو فطرت کانام ہے وہ اور شئے۔مختلف مذاہب کے نزدیک نجات آرین مذہب کے نزدیک یہ دنیا دوزخ ہے اور جب اس سے علیحدگی ہوگی تو نجات ہو جاتی ہے کیونکہ وہ لوگ یہ مانتے ہیں کہ جو نیں عذاب ہیں اور ان کے نزدیک تمام اعمال کی سزااسی دنیامیں ملتی ہے۔بدھوں کا نقطہ خیال یہ ہے کہ دنیا دکھ کی جگہ ہے لیکن انسان کے دل میں خواہشات پیدا ہو کراس کو بار بار دنیا میں لاتی ہیں اور ان خواہشات کے ترک کر دینے سے اس عذاب سے بچ جاتا ہے جینیوں کے نزدیک یہ ہے کہ دنیا میں انسان اس لئے آتا ہے کہ بعض روحوں کو مادہ چمٹ جاتاہے اور دنیا میں آنے کی مثال ایسی ہے جیسا کہ کانٹوں میں کپڑا پھنس جائے۔ایک طرف سے چھڑایا جاۓ تو دوسری طرف پھنس جائے سب طرف سے چمٹ جانا مکتی ہے لیکن ان کے نزدیک اس