انوارالعلوم (جلد 7) — Page 42
انوار العلوم - جلدے ۴۲ تقریر جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۲۲ء ہیں اور قانون بھی مشکل نظر آتا ہے مگر اس وجہ سے نظام سے ڈرنا نہیں چاہئے اور انتظام کے ما تحت کام کرنا چاہئے۔ کام لیکن جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ لوگ انتظام کی قدر کریں اسی طرح منتظمین کو ہدایت انتظام کرنے والوں کو بھی چاہئے کہ لوگوں کی مشکلات اور ان ان کے جذبات کا خیال رکھیں۔ ہر جگہ امور عامہ کا صیغہ ہو جو لوگوں کی نگرانی رکھے، اشاعت اسلام کا کا محکمہ ہو ، تعلیم و تربیت کا محکمہ ہو۔ شروع شروع میں اس انتظام میں دقتیں ہوں گی اور لڑائیاں جھگڑے بھی زیادہ ہوں گے مگر آخر میں انتظام اچھا ہو جائے گا اور کام خوش اسلوبی سے چلنے لگ جائے گا۔ اس وقت تو جوں کو بعض اوقات فیصلہ میں بڑی وقت پیش آتی جوں کے لئے مشکلات ہے۔ کچھ عرصہ کی بات ہے کہ ایک لڑکی کی شادی اس کی ماں نے اس کی نابالغی کی حالت میں کر دی تھی بالغ ہونے پر لڑکی نے صبح نکاح کی درخواست محکمہ قضاء میں دی۔ اس عورت نے قاضی کے متعلق خیال کر لیا کہ فیصلہ میرے خلاف کرے گا وہ اس کے گھر گئی اور جا کر کہہ دیا کہ مجھے تمہارا فیصلہ منظور نہ ہو گا ۔ حج بھی نیا تھا اس نے کہہ دیا کہ اگر تمہیں میرا فیصلہ منظور نہیں تو میں اس مقدمہ کی تحقیقات میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا ۔ میں نے اس عورت کو بہت سمجھایا کہ حج کو فیصلہ کرنے دو۔ مگر وہ یہی کہتی رہی کہ فیصلہ میرے حق میں ہونا چاہئے یعنی طلاق ملنی چاہئیے ۔ فیصلہ تو یہی ہونا تھا کیونکہ میرے نزدیک ایسی حالت میں لڑکی کو اختیار ہے کہ خاوند کے گھر جانے سے قبل طلاق لے لے۔ مگر انتظام کا تقاضا یہ تھا کہ فیصلہ ہونے سے قبل اسے مگر یہ تھا یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ تمہارے حق میں ہی فیصلہ ہو گا کیونکہ اعلیٰ حج کو حق نہیں ہوتا کہ عدالت ماتحت کے فیصلہ سے پہلے اپنے خیالات کا اظہار کر دے تاکہ ان پر اس کی رائے کا اثر نہ ہو۔ اس پر اس عورت نے اپنے کسی رشتہ دار کو جو غیر احمدی تھا خط لکھا اور اس نے مجھے لکھا کہ تم بڑے ظالم ہو وغیرہ وغیرہ۔ تو اس قسم کی دقتیں شروع میں ہوتی ہیں مگر ان کی پرواہ نہیں ہونی چاہئے۔ بعض لوگ جو شیلے اور فسادی ہوتے ہیں اور وہ انتظام کو درہم برہم کرنا چاہتے ہیں ان کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔ کچھ مدت کے بعد سب انتظام درست ہو جائے گا۔ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی اس قسم کی دقتیں پیش آجاتی تھیں۔ ایک دفعہ ایک مسلمان رسول کریم ﷺ کے پاس اپنا مقدمہ لے کر انتظام درست ہو جائے کار سواری کے زمانہ میں ہی اس ختم کی