انوارالعلوم (جلد 7) — Page 594
انوار العلوم جلدے ۵۹۴ دعوة الامير کریم پر ابتداء ایمان لانے والے آج تک دنیا کے سردار بنے ہوئے ہیں لیکن جو اس وقت ایمان لائے جب اسلام کو غلبہ حاصل ہو چکا تھا ان میں سے بہتوں کے نام بھی لوگ نہیں جانتے۔ پس جو شخص اس وقت کہ یہ جماعت کمزور کبھی جاتی ہے ایمان لاتا ہے وہ اللہ تعالی کے نزدیک سابقون میں لکھا جائے گا اور خاص انعامات کا وارث ہوگا اور عظیم الشان برکات کو دیکھے گا اگرچہ بہت سا وقت گزر چکا ہے مگر پھر بھی عزت کے دروازے ابھی کھلے ہیں اور اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنا ابھی آسان ہے۔ پس میں آپ کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اس وقت کی قدر کریں اور رَبَّنَا اثْنَا سَمِعْنَا مُنَادِیا تُنَادِي لِلْإِيْمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَامَنَا کہتے ہوئے اس آواز پر لبیک کہیں جسے خود اللہ تعالی نے بلند کیا ہے تاکہ آپ اس کے مقبول اور پیارے ہو جائیں۔ میں آپ سے سچ سچ کہتا ہوں کہ احمدیت کے باہر اللہ تعالٰی نہیں مل سکتا ہر ایک شخص جو اپنے دل کو ٹٹولے گا اسے معلوم ہو جائے گا کہ اس کے دل میں اللہ تعالی اور اس کی باتوں پر وہ یقین اور وثوق نہیں جو قطعی اور یقینی باتوں پر ہونا چاہئے اور نہ وہ اپنے دل میں وہ نور پائے گا جس کے بغیر اللہ تعالی کا چہرہ نظر نہیں آسکتا۔ یہ یقین اور وثوق اور یہ نور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے باہر کہیں نہیں مل سکتا کیونکہ اللہ تعالی چاہتا ہے کہ سب کو ایک نقطے پر جمع کرے مگر کیا کوئی شخص جو موت پر نظر رکھتا ہے اس زندگی پر خوش ہو سکتا ہے جو اللہ تعالٰی سے دوری میں کئے اور جس میں اللہ تعالی کے نور سے حصہ نہ ملے۔ پس اس نور کو حاصل کیجئے اور اس یقین کی طرف دوڑیئے جو احمدیت ہی میں حاصل ہو سکتا ہے اور جس کے بغیر زندگی بالکل بے مزہ اور بے لطف ہے اور دوسروں پر سبقت لے جائیے تاکہ آئندہ نسلوں میں بھی آپ آپ کا کا نام نام ادب اور ام احترام کے ساتھ لیا جائے اور زمانے کے آخر تک آپ کے نام پر رحمتیں بھیجنے والے موجود رہیں۔ بیشک اللہ تعالی کے سلسلوں میں داخل ہونے والے انسان بڑے بوجھ کے نیچے دب جاتے ہیں مگر ہر ایک بوجھ تکلیف نہیں دیتا۔ کیا وہ کسان جو اپنی سال بھر کی کمائی سر پر رکھ کر اپنے گھر لاتا ہے بوجھ محسوس کرتا ہے یا وہ ماں جو اپنا بچہ گود میں اٹھائے پھرتی ہے بوجھ محسوس کرتی ہے ؟ اس طرح اللہ تعالی کے دین کی خدمت میں حصہ لیتا اور اس کیلئے کوشش کرنا مومن کے لئے بوجھ نہیں ہوتا دوسرے اسے بوجھ سمجھتے ہیں مگر وہ اسے عین راحت خیال کرتا ہے۔ پس ان ذمہ