انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 586 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 586

انوار العلوم جلدے ۵۸۶ دعوة الامير انگلستان کا اقبال ، اس کی دولت اس کی حکومت ان کو ڈراتی نہیں کیونکہ ان کو یقین ہے کہ وہ زندہ ہیں اور انگلستان مردہ پھر زندہ مردے سے کیا ڈرے اور اس سے کیوں گھبرائے ۔ مغربی افریقہ کا ساحل جہاں مسیحیت نے اپنے پاؤں پھیلانے شروع کئے تھے اور لاکھوں آدمیوں کو مسیحی بنا لیا تھا اور ایک آدمی کی پرستش کیلئے لوگ جمع کئے جا رہے تھے وہاں کون واحد خدا کے نام کو بلند کرنے کیلئے گیا اور شرک کی توپ کے آگے سینہ سپر ہوا؟ وہی مسیح موعود کے نفخ سے زندہ ہونے والے لوگ جو اس وقت اسلام کی حفاظت کیلئے کھڑے ہوئے جب لوگ اسلام کی موت کا یقین کر بیٹھے تھے اور اس کے اثر کو متا ہوا دیکھنے لگے تھے۔ کس نے ماریشس کی طرف توجہ کی اور اس ایک طرف پڑے ہوئے جزیرے کے باشندوں کو زندگی بخشنے کا کام اپنے ذمہ لیا کس نے لنکا کو جو نہایت قدیم تاریخی روایات کا مقام ہے جا کر اپنی آواز سے چونکایا کون روس اور افغانستان کے لوگوں کو زندگی کی نعمت بخشنے کیلئے گیایی مسیح موعود کے زندہ کئے ہوئے لوگ ۔ کیا یہ زندگی کی علامت نہیں کہ چالیس کروڑ مسلمانوں میں سے کوئی نظر نہیں آتا جو تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کیلئے اپنے گھر سے نکلا ہو لیکن ایک مٹھی بھر احمدیوں میں سے سینکڑوں اس کام پر لگے ہوئے ہیں اور ان ممالک میں تبلیغ کر رہے ہیں اور ان لوگوں کو مسلمان بنا رہے ہیں جن کی نسبت خیال بھی نہیں کیا جاتا تھا کہ وہ کبھی اسلام کا نام بھی سنیں گے ۔ اگر اس جماعت کے افراد میں نئی زندگی نہیں پیدا ہوئی تو انہوں نے دنیا کا نقشہ کس طرح بدل دیا اور ان میں تن تنہا ملکوں کا مقابلہ کرنے کی جرأت کیونکر پیدا ہوئی اور کسی امر نے ان کو مجبور کیا کہ وہ وطن چھوڑ کر بے وطنی میں دھکے کھاتے پھریں کیا ان کے ماں باپ نہیں ، ان کی بیویاں بچے نہیں ، ان کے بہن بھائی نہیں ، ان کے دوست آشنا نہیں ، ان کو اور کوئی کام نہیں ؟ پھر کس چیز نے ان کو دنیا سے ہٹا کر دین کی طرف لگا دیا اس بات نے کہ انہوں نے زندگی کی روح پائی اور مردہ چیزوں کو اس زندہ خدا کیلئے جو سب زندگیوں کا سرچشمہ ہے چھوڑ دیا وہ ان میں سما گیا اور وہ اس میں سما گئے ۔ فَتَبَرَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ۔ ۳۲۷ میں نے مسیح موعود کی جو موعود کی جو زندگی بخش طاقت لکھی ہے یہ مشتبہ رہے گی اگر میں اس زندگی کے اثر کو بیان نہ کروں جو حقیقی معیار حیات ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت اقدس نے اپنی قوتِ احیاء میں ایسی زندگی لوگوں کے دلوں میں پیدا کی کہ بہت سے ان میں سے نہ صرف زندہ ہی