انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 575

انوار العلوم جلدے ۵۷۵ دعوة الامير مسیحیت گورنمنٹ کا مذہب ہے اور ڈرتے تھے کہ اس کا مقابلہ کریں گے تو نقصان پہنچے گا اور سوائے شاذ و نادر کے اکثر علماء پادریوں کی باتوں کا رو کرنے سے خوف کھاتے تھے اور جو مقابلہ بھی کرتے وہ ان کے حملوں کے آگے مغلوب ہو جاتے کیونکہ قرآن کریم کا علم ہی ان کو حاصل نہ تھا اس حالت کو دیکھ کر آپ نے پادریوں کا مقابلہ کرنے پر کمر ہمت باندھ لی اور خوب زور سے ان سے بحث و مباحثہ شروع کیا اور پھر اس مقابلے کے دروازے کو آریوں اور دیگر اقوام کے واسطے بھی وسیع کر دیا ۔ کچھ عرصے کے بعد آپ کو آپ کے والد صاحب نے واپس بلا لیا اور پھر یہ خیال کر کے کہ اب تو آپ ملازمت کر چکے ہیں شاید اب ملازمت پر راضی ہو جائیں پھر آپ کے ملازم کرانے کی کوشش کی مگر آپ ان سے معافی ہی چاہتے رہے ۔ ہاں یہ دیکھ کر کہ آپ کے والد صاحب مصائب دنیوی میں بہت گھرے ہوئے ہیں ان کے کہنے پر یہ کام اپنے ذمے لے لیا کہ ان کی طرف سے ان کے مقدمات کی پیروی کر دیا کریں ۔ ان مقدمات کے دوران میں آپ کی انابت الی اللہ اور بھی ظاہر ہوئی ایک دفعہ ایسا ہوا کہ آپ مقدمے کی پیروی کیلئے گئے اور مقدمے کے پیش ہونے میں دیر ہو گئی نماز کا وقت آگیا آپ بار جو دلوگوں کے منع کرنے کے نماز کیلئے چلے گئے اور جانے کے بعد ہی مقدمہ کی پیروی کیلئے بلائے گئے مگر آپ عبادت میں مشغول رہے۔ اس سے فارغ ہوئے تو عدالت میں آئے حسب قاعدہ سرکاری چاہئے تو یہ تھا کہ مجسٹریٹ یکطرفہ ڈگری دے کر آپ کے خلاف فیصلہ سنا دیتا مگر اللہ تعالٰی کو آپ کی یہ بات ایسی پسند آئی کہ اس نے مجسٹریٹ کی توجہ کو اس طرف سے پھیر دیا اور اس نے آپ کی غیر حاضری کو نظر انداز کر کے فیصلہ آپ کے والد صاء مد صاحب کے حق میں کر دیا ۔ ایک صاحب جو آپ کے بچپن کے د کے دوست تھے سناتے تھے کہ وہ لاہور میں ملازم تھے آپ ؟ رمیں ملازم تھے آپ بھی کسی اہم مقدمے کی پیروی کیلئے جس کی اپیل سب سے اعلیٰ عدالت میں دائر تھی وہاں گئے اور وہ مقدمہ ایسا تھا کہ اس میں ہارنے سے آپ کے والد صاحب کے حقوق اور بالآخر آپ کے حقوق کو سخت صدمہ پہنچتا تھا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ جب آپ مقدمے سے واپس آئے تو بہت خوش تھے میں سمجھا کہ آپ مقدمہ جیت گئے ہیں جبھی تو اس قدر خوش ہیں میں نے بھی خوشی سے مقدمے میں کامیابی کی مبارک باد دی تو آپ نے فرمایا کہ مقدمے میں تو ہم ہار گئے ہیں خوش اس لئے ہیں کہ اب کچھ دن علیحدہ بیٹھ کر ذکر الہی کا موقع ملے گا۔ جب آپ اس قسم کے معاملات سے تنگ آگئے تو آپ نے ایک خط اپنے والد صاحب کو