انوارالعلوم (جلد 7) — Page 569
۵۶۹ دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا-‘‘ میں تیرے خالص اور دلی محبوں کا گروہ بھی بڑھاؤں گا اور ان کے نقوس اور اموال میں برکت دونگا اور ان میں کثرت بخشوں گا- (اللہ تعالیٰ) اس (گروہ احمدیان) کو نشونما دے گا یہاں تک کہ ان کی کثرت اور برکت نظروں میں عجیب ہو جائے گی- یاتون من کل فج عمیق یعنی دنیا کے ہر ملک سے لوگ تیری جماعت بھی شامل ہے- انگریزی میں بھی آ پؑ کو اس کے متعلق الہام ہوا- کوئی ول گو یو اے لارج پارٹی آف اسلام< میں تم کو مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت دونگا- ثلہ من الاولین وثلہ من الاخرین- پہلوں میں سے بھی ایک بڑی جماعت تم کو دی جائے گی اور پچھلوں میں سے بھی- جس کے معنی یہ بھی ہیں کہ پہلے انبیاء کی امتوں میں سے بھی ایک گروہ کثیر تم پر ایمان لائے گا اورمسلمانوں میں سے بھی ایک بڑی جماعت تم پر ایمان لائے گی- یا نبی اللہ کنت لا اعرفک زمین کہے گی (یعنی اہل زمین) کہ اے اللہ کے نبی! میں تجھے نہیں پہچانتی تھی- انا نرث الارض نا کلھا من اطرانھا<- ہم زمین کے وارث ہوں گے اسے اس کے کناروں کی طرف سے کھاتے آویں گے- ان الہامات میں سے بہت سے تو ایسے وقت میں ہوئے اور اسی وقت شائع بھی کر دئے گئے جب کہ آپ پر ایک شخص بھی ایمان نہیں لایا تھا اور بعض بعد کو ہوئے جب سلسلہ قائم ہو چکا تھا مگر وہ بھی ایسے وقت میں ہوئے جب کہ سلسلہ اپنی ابتدائی حالت میں تھا اس وقت آپ کا یہ الہام شائع کر دینا کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ آپ کے ساتھ ایک بڑی جماعت ہو جائے گی اور صرف ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ تمام ممالک میں آپ کے مرید پھیل جائیں گے اور ہر مذہب کے لوگوں میں سے نکل کر لوگ آپ کے مذہب میں داخل ہوں گے اور ان کو اللہ تعالیٰ بہت بڑھائے گا اور کسی ملک کے لوگ بھی آپ ؑکی تبلیغ سے باہر نہیں رہیں گے- کیا یہ ایک معمولی بات ہے؟ کیا انسانی دماغ قیاسات کی بناء پر ایسی بات کہہ سکتا ہے؟ یہ زمانہ علمی زمانہ ہے اور لوگ اپنے پہلے مذہب کو جس کی صداقت یوم ولادت سے ان کے ذہن نشین کی جاتی رہی تھی چھوڑ رہے ہیں- آجکل مسیحی مسیحی نہیں رہے` ہندو ہندو نہیں