انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 557

انوار العلوم جلدے ۵۵۷ دعوة الامير کہ ان کی تدبیروں سے یہ فتح ہوتی ہے لیکن اگر واقعات پر ایک تفصیلی نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حیرت انگیز اتفاقات انگریزوں کی فتح کا موجب ہوئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فتح آسمانی دخل اندازی سے ہوئی ہے نہ کہ صرف انسانی تدبیر ہے ۔ ایک علامت جو اپنے اندر کئی نشانات رکھتی ہے یہ بتائی گئی تھی کہ اس جنگ میں زار کا حال بہت ہی خراب ہو گا۔ جس وقت یہ پیشگوئی کی گئی اس وقت کے حالات اس کے الفاظ کے پورا ہونے کے بالکل مخالف تھے مگر پیشکوئی پوری ہوئی اور ہر ایک کیلئے حیرت کا موجب بنی۔ اس پیشگوئی میں در حقیقت کئی پیشگوئیاں ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اس آفت عظمیٰ تک زار کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا جب یہ جنگ ہو گی اس وقت اس کو صدمہ پہنچے گا لیکن صدمہ اس قسم کا نہیں ہو گا کہ وہ مارا جائے کیونکہ جو شخص مارا جائے اس کی نسبت یہ نہیں کہا جاتا کہ اس کا حال زار ہے ۔ پس الفاظ الهام بتاتے ہیں کہ اس وقت اس کو موت نہیں آئے گی بلکہ وہ نہایت تکلیف وہ عذابوں میں مبتلاء ہوگا اور پھر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس آفت کے ساتھ ہی زاروں کا خاتمہ ہو جائے گا کیونکہ اس وقت کا مورد کسی خاص شخص کو نہیں بلکہ زار کو بحیثیت عہدہ بتایا گیا ہے ۔ اب دیکھئے یہ علامت کس شان کے ساتھ پوری ہوئی ۔ اس جنگ سے پہلے زار کے خلاف بہت سی منصوبہ بازیاں ہوئیں مگر وہ بالکل محفوظ رہا اس کے بعد یہ جنگ ہوئی اور اللہ تعالٰی کا بتایا ہوا وقت آگیا تو اس طرح اچانک وہ پکڑا گیا کہ سب لوگ حیران ہیں جیسا کہ حالات معلوم ہوتا ہے جس وقت روس میں فساد پھوٹا ہے اس و چھوٹا ہے اس وقت زار روس سرحد پر فوجوں کے معائنے کیلئے گیا ہوا تھا اور جب وہ دارالخلافہ سے چلا ہے اس وقت کوئی ایسا فساد نہ تھا اس کے بعد گورنر کی بعض غلطیوں سے جوش پیدا ہوا لیکن حکومتوں میں اس قسم کے جوش تو پیدا ہو ہی جاتے ہیں اور اس قدر مضبوطی سے قائم حکومتیں ایسے جوشوں سے یکدم نہیں مٹ جاتیں مگر اللہ تعالٰی اس موقع پر کام کر رہا تھا زار روس نے لوگوں میں جوش کی حالت معلوم کر کے گورنر کو سختی کرنے کا حکم دے دیا مگر اس دفعہ سختی نے خلاف معمول اثر کیا لوگوں کا جوش اور بھی بڑھ گیا۔ بادشاہ نے اس گور نر کو بدل کر ایک اور گورنر مقرر کر دیا اور خود دار الخلافہ کی طرف چلا تاکہ اس کے جانے سے لوگوں کا جوش ٹھنڈا پڑ جائے مگر راستے میں اسے اطلاع ملی کہ لوگوں کا جوش تیزی پر ہے اور یہ کہ اس کو اس وقت دار الخلافہ کی طرف نہیں آنا چاہئے مگر بادشاہ نے اس نصیحت کی پروانہ کی اور خیال کیا کہ اس کی موجودگی میں کوئی شور نہیں ہو سکتا اور آگے ہے