انوارالعلوم (جلد 7) — Page 554
۵۵۴ کو بھی ہلا دیا ہے اوراب وہ اس جال میں سے نکلنے کے لئے سخت ہاتھ پاؤں مار رہا ہے جو خود اس کے ہاتھوں نے تیار کیا تھا مگر کامیاب نہیں ہوتا اور یقیناً دنیا دیکھ لے گی کہ جنگ سے پہلے کا یوروپین تمدن اب کامیاب نہیں رہے گا` بلکہ اس کی جگہ ایسے طریق اور ایسی رسومات لے لیں گی کہ خر اسے اسلام کی طرف توجہ کرنی پڑے گی اور یہ خدا کی طرف سے مقدر ہو چکا ہے کوئی اس امر کو روک نہیں سکتا- ایک علامت یہ بتائی گئی کہ بنی اسرائیل کو جو تکلیف پہنچ رہی تھی اس سے وہ بچا لیے جائیں گے- چنانچہ یہ بات بھی نہایت وضاحت کے ساتھ پوری ہوئی` اسی جنگ کے دوران میں اور اسی جنگ کے باعث سے مسٹر بلفور نے جواب لارڈ بلفور ہیں اس بات کا اعلان کیا کہ یہودی جو بے وطن پھر رہے ہیں` ان کا قومی گھر یعنی فلسطین ان کو دے دیا جائے گا اور اتحادی حکومتیں اس امر کو بھی اپنا نصب العین بنائیں گی کہ اس جنگ کے بعد وہ بے انصافی جو ان سے ہوتی چلی آئی ہے دور کر دی جائے` چنانچہ اس وعدے کے مطابق جنگ کے بعد فلسطین ترکی حکومت سے علیحدہ کر لیا گیا اور یہود کا قومی گھر قرار دے دیا گیا اب وہاں حکومت اس طرز پر چلائی جا رہی ہے کہ کسی دن وہاں یہود کا قومی گھر بن سکے` چاروں طرف سے وہاں یہود جمع کئے جا رہے ہیں اور ان کا وہ پرانا مطالبہ پورا کر دیا گیا ہے جو وہ اپنے قومی اجتماع کے متعلق پیش کرتے چلے آرہے تھے- اس علامت کے متعلق ایک عجیب بات یہ ہے کہ اس کی طرف قرآن کریم نے بھی اشارہ کیا ہے- سورہ بنی اسرائیل میں آتا ہے وقلنا من بعدہ لبنی اسراء یل اسکنوا الارض فاذا جاء وعد الاخرہ جئنا بکم لفیفا یعنی فرعون کے ہلاک کرنے کے بعد ہم نے بنی اسراء یل سے کہا کہ اس زمین میں رہو- پھر جب کو آنے والی بات کے وعدے کا وقت آئے گا تو اس وقت ہم تم سب کو اکٹھا کر کے لے آئیں گے- بعض مفسرین نے اس الارض (زمین)سے مراد مصر لیا ہے اور بعد کو آنے والی بات کے وعدے سے مراد قیامت لی ہے` مگر یہ دونوں باتیں درست نہیں کیونکہ بنی اسرائیل کو مصر میں رہنے کا حکم نہیں` بلکہ ارض مقدسہ میں رہنے کا حکم ملا تھا اور وہیں وہ رہے` اسی طرح وعد الاخرہ سے بھی قیامت مراد نہیں کیونکہ قیامت کا تعلق ارض مقدسہ میں رہنے کے ساتھ کچھ بھی نہیں` صحیح معنے یہ ہیں کہ ارض مقدسہ میں رہنے کا ان کو حکم دیا گیا ہے اور پھر یہ