انوارالعلوم (جلد 7) — Page 551
انوا را معلوم جلدے ۵۵۱ دعوة الامير کروں گا کہ یہ بھی جنگ عظیم کی علامت تھی جو پوری ہوئی میں یہ بھی بتاؤں گا کہ اس پیشگوئی کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہے ۔ (۶) الفاظ الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنگ ہے کیونکہ زلزلے کے الہامات میں بتایا گیا ہے کہ فرعون و ہامان اور انکے لشکر غلطی پر تھے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ جر من قیصر کی طرف اشارہ ہے جو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا قائم مقام بتاتا تھا۔ جس طرح فرعون اپنی نسبت کہتا تھا کہ اَنَا رَبُّكُمُ الاَعلیٰ ۲۹۸۔ اور اس کا وزیر شاہ آسٹریا مراد ہے جو اپنی ہستی ظاهری کوئی نہیں رکھتا تھا بلکہ جرمن وار لارڈ کے حکم اور اشارے پر چلتا تھا۔ اگر زلزلے سے ظام زلزلہ مراد لیں تو ان فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا كَانُوا خَاطِئِينَ کے معنے کرنے مشکل ہے ہو جاتے ہیں ۔ (۷) زلزلے کے ان الهاموں کے ساتھ انّي مَعَ الْأَفْوَاجِ انْبِكَ بَغْتَةً کا الہام بھی بار بار ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی جنگ ہی کی طرف اشارہ ہے ۔ (۸) الہامات سے معلوم ہوتا ہے کہ آتش فشاں پہاڑ پھوٹے گا اور اس کے ساتھ عرب کی مصلحتیں وابستہ ہوں گی اور وہ گھروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور یہ مضمون ظاہری زلزلے پر ہر گز چسپاں نہیں ہو سکتا اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آتش فشاں سے مراد وہ طبائع کا مخفی جوش ہے جو کسی واقعہ کی وجہ سے اہل پڑے گا اور اس وقت عرب بھی دیکھیں گے کہ خاموش رہنا ان کے مصالح کے خلاف ہے اور وہ بھی اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور اس موقع سے فائدہ اٹھائیں گے ۔ (۹) الہامات میں بتایا گیا ہے کہ اس دن بادشاہت اللہ تعالی کے قبضے میں ہو گی اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حکومتیں کمزور ہو جائیں گی اور اللہ تعالٰی اپنی حکومت زور دار نشانوں سے قائم کرے گا۔ (۱۰) ایک الہام یہ ہے کہ پہاڑ گرا اور زلزلہ آیا اور یہ بات بچے تک جانتے ہیں کہ طبعی زلازل پہاڑ کرنے کے نتیجے میں نہیں پیدا ہوتے بلکہ زلزلوں کے سبب سے پھاڑ کرتے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ پہاڑ کرنے اور زلزلہ آنے سے طبعی زلزلہ مراد نہیں بلکہ استعارہ کچھ اور مراد ہے اور وہ یہی کہ کوئی بڑی مصیبت آئے گی جس کے نتیجے میں دنیا میں زلزلہ آئے گا اور لوگ ایک دوسرے سے جنگ کرنے لگیں گے ۔ (۴) چوتھا ثبوت اس بات کا کہ زلزلے سے مراد کوئی اور آفت تھی یہ ہے کہ انہیں دنوں کے دوسرے الہامات بھی ایک جنگ عظیم کی طرف اشارہ کرتے تھے جیسے یہ الہام کہ " لنگر اٹھا دو " یعنی ہر قوم اپنے بیٹوں کو حکم دے گی کہ وہ ہر وقت سمندر میں جانے کیلئے تیار رہیں اور اسی طرح یه الهام کهہ "کشتیاں چلتی ہیں تا ہوں کشتیاں " یعنی کثرت سے جہاز ادھر سے ادھر اور ادھر