انوارالعلوم (جلد 7) — Page 550
۵۵۰ اور مصیبت ہو اور گو مخالفین نے اس امر پر خاص زور دیا کہ آ زلزلے کے لفظ کے کچھ اور معنے نہ قرار دیں` مگر آپ نے متواتر ان کے اعتراضات کے جواب میں یہی لکھا کہ جب کہ الٰہی محاورات میں اختلاف معانی پایا جاتا ہے تو میں اس لفظ کو ایک معنے میں حصر نہیں کر سکتا` پیشگوئی کی عظمت یہ ہے کہ وہ بہت سی ایسی نشانیاں بتاتی ہے جن کا قبل از وقت بتانا انسان کا کام نہیں- پھر وہ وقت بھی بتاتی ہے جس کے اندر وہ واقعہ ہو گا اور یہ بھی بتاتی ہے کہ اس واقعہ کی نظیر پہلے زمانے میں نہیں ملے گی- ۳ ) خود پیشگوئی کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ اس سے مراد زلزلہ نہیں ہو سکتا` بلکہ کوئی مصیبت مراد ہے کیونکہ ۱) پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ وہ زلزلہ ساری دنیا پر آئے گا اور زلازل زمینی سب دنیا پر ایک وقت میں نہیں آتے` بلکہ ٹکڑوں ٹکڑوں پر آتے ہیں۲) پیشگوئی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ زلزلے کی گھڑی مسافروں پر سخت ہو گی اور وہ راستہ بھول جائیں گے اور زلزلے کا اثر مسافروں پر کچھ بھی نہیں ہوتا- زلزلہ ان لوگوں کے لیے خطرناک ہوتا ہے جو گھروں اور شہروں میں رہنے والے ہوں- وہ مصیبت جس سے مسافر کو راستہ بھول جائے اور وہ کہیں کا کہیں مارا مارا پھرے- جنگ ہی ہوتی ہے کیونکہ جنگی لائنوں کو چیر کر وہ باہر جا نہیں سکتا اور ادھر ادھر بھاگا بھاگا پھرتا ہے۳) پیشگوئی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زلزلے کا اثر کھیتوں اور باغوں پر بھی ہوگا اور زلازل ارضی کا اثر کھیتوں اور باغوں پر نہیں ہوتا ہے- کھیتوں اور باغوں پر جنگ کا ہی اثر ہوتا ہے کیونکہ دونوں طرف کی توپوں سے وہ بالکل برباد ہو جاتے ہیں اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جنگی فوائد کو مدنظر رکھ کر کھیت اور باغات کاٹ دئیے جاتے ہیں )۴) پیشگوئی سے معلوم ہوتا ہے کہ پرندوں پر بھی اس زلزلے کا اثر شدید طور پر ہوگا اور وہ اپنی بولیاں بھول جائیں گے اور ان کے حواس اڑ جائیں گے- یہ اثر بھی ظاہر زلزلے کا نہیں ہوتا- کیونکہ تھوڑی دیر اس کی حرکت رہتی ہے اور اگر پرندے ہوا میں اڑ جائیں تو ان کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا` مگر جنگ میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ بوجہ رات اور دن کی گولہ باری اور درختوں کے کٹ جانے کے جانور ایسے علاقوں میں سے قریباً مفقود ہو جاتے ہیں اور ان کے حواس اڑ جاتے ہیں۵) زلزلہ کے الہامات میں ایک فقرہ کففت عن بنی اسراء یل ہے- جس کے یہ معنے ہیں کہ میں نے بنی نوع اسرائیل کو شر سے بچا لیا` ظاہری زلزلے سے اس امر کا کوئی تعلق نہیں- اس لیے ان الہامات سے کوئی ایسا ہی واقعہ مراد تھا جس سے بنی اسرائیل کو فائدہ پہنچے گا اور یہ میں آگے بیان