انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 535

۵۳۵ کی وعظ سننے کے لئے گئے تو انہوں نے دیکھا کہ اس کے تمام جسم پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں- اس نے ان سے کہا کہ اس کا نام جیری ہے اور وہ ساری رات شیطان سے لڑتا رہا ہے اور اس جنگ میں اس کا جرنیل مارا گیا ہے اور وہ خود بھی زخمی ہو گیا ہے اس پر ان لوگوں کو یقین ہو گیا کہ یہ شخص بالکل پاگل ہو گیا ہے اور وہ بھی اس کو چھوڑ گئے اور حضرت اقدسؑ کے یہ الفاظ کو وہ ’’میرے دیکھتے دیکھتے بڑی حسرت اور دکھ کے ساتھ اس دنیائے فانی کو چھوڑ دے گا‘‘ آٹھ مارچ ۱۹۰۷ء کو پورے ہو گئے یعنی ڈوئی حسرت اور دکھ کے ساتھ اس دنیا سے کوچ کر گیا اس کی موت کے وقت اس کے پاس صرف چار آدمی تھے اور اس کی پونجی کل تیس روپے کے قریب تھی- اے بادشاہ! اس سے بڑھ کر حسرت اور اس سے بڑھ کر دکھ کی کیا کوئی اور موت ہو سکتی ہے؟ یقیناً یہ ایک عبرت انگیز واقعہ ہے اور اہل مغرب کے لیے کھلا کھلا نشان- چنانچہ بہت سے اخبارات نے اس امر کو تسلیم کیا کہ حضرت اقدسؑ کی پیشگوئی پوری ہو گئی ہے اور وہ ایسا کرنے پر مجبور تھے- مثال کے طور پر میں چند اخبارات کے نام لکھ دیتا ہوں- ڈونول گزٹ امریکن اخبار اس واقعہ کا ذکر کر کے لکھتا ہے- ’’اگر احمد اور ان کے پیرو اس پیشگوئی کے جو چند ماہ ہوئے پوری ہو گئی ہے نہایت صحت کے ساتھ پورا ہونے پر فخر کریں تو ان پر کوئی الزام نہیں- ۷‘‘ جون ۱۹۰۷ء امریکہ کا اخبار ٹرتھ سیکر لکھتا ہے-: ’’ظاہری واقعات چیلنج کرنے والے کے زیادہ دیر تک زندہ رہنے کے خلاف تھے مگر وہ جیت گیا‘‘- یعنی حضرت اقدسؑؑ کی عمر ڈوئی سے زیادہ تھی اور وہ آ پ ؑکے مقابلہ میں جوان تھا- بوسٹن امریکہ کا اخبار ہیرلڈ لکھتا ہے-: (۲۳ جون ۱۹۰۴ء)’’ڈوئی کی موت کے بعد ہندوستانی نبی کی شہرت بہت بلند ہو گئی ہے- کیونکہ کیا یہ سچ نہیں کہ انہوں نے ڈوئی کی موت کی پیشگوئی کی تھی کہ یہ ان کی یعنی مسیح کی زندگی میں واقع ہو گی اور بڑی حسرت اور دکھ کے ساتھ اس کی موت ہو گی` ڈوئی کی عمر پینسٹھ سال کی تھی اور پیشگوئی کرنیوالے کی پچھتر سال کی۔‘‘ ان چند اقتباسات سے نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اس پیشگوئی کا اثر مسیحی بلکہ دہریہ اخبارات کے ایڈیٹروں کے دل پر بھی نہایت گہرا پڑا تھا اور اس کے حیرت انگیز نتائج سے ایسے متاثر ہو گئے تھے کہ اس اثر کو اخباروں میں ظاہر کرنے سے بھی نہ جھجکے- پس یہ بات بالکل یقینی ہے کہ جب مغربی ممالک کے باشندوں کے سامنے یہ نشان پورے زور سے پیش کیا گیا تو اپنے بیسیوں ہم