انوارالعلوم (جلد 7) — Page 525
۵۲۵ گھبراہٹ بڑھتی گئی اور آخر وہ دن آگیا کہ کاسک فوج بھی جس پر بادشاہ کو ناز تھا بادشاہ کو چھوڑ کر باغیوں سے مل گئی اور بادشاہ اپنے حرم سمیت اپنے ایوان کو چھوڑ کر ۱۵ جولائی ۱۹۰۹ء کو روسی سفارت گاہ میں پناہ گزیں ہو گیا اور پورے اڑھائی سال کے بعد حضرت اقدسؑ مسیح موعود ؑکا الہام ’’تزلزل درایوان کسریٰ فتاد‘‘ نہایت عبرت انگیز طور پر پورا ہوا۔ایران سے استبدادیت کا خاتمہ ہو گیا اور جمہوریت کا نیا تجربہ جس کت نتائج خدا کو معلوم ہیں شروع ہوا۔جون اور جولائی کے مہینوں میں گھبراہٹ خوف اور یاس کے بادل جو ایوان کسریٰ پر چھا رہے تھے ان کا اندازہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جو اس قسم کے حالات کا مشاہدہ کر چکے ہوں` ہوں` یا اللہ تعالیٰٰ کی طرف سے ان کو غیر معمولی قوت متخیلہ ملی ہو` مگر بہر حال صاحب بصیرت کے لیے یہ نشان حضرت اقدسؑ علیہ السلام کی سچائی کا بہت بڑا ثبوت ہے مگر کم ہیں جو فائدہ اٹھاتے ہیں- تیسری پیشگوئی آتھم کے متعلق پیشگوئی جس سے دنیا کے مسیحیوں پر عموماً اور ہندوستان کے مسیحیوں پر خصوصاً حجت پوری ہوئی تیسری مثال پیشگوئیوں کی میں ان امور غیبیہ میں سے بیان کرتا ہوں جو حضرت اقدسؑ مسیح موعود علیہ السلام نے مسیحی معاندین ِاسلام کے خلاف شائع کیں تاکہ مسیحی دنیا پر حجت قائم ہو- اے بادشاہ! میں نہیں جانتا کہ آپ کو ان حالات سے واقفیت ہے یا نہیں کہ مسیحی مناد اور مبلغ مسلمانوں کے غلط عقائد اور ان کے بیان کردہ غلط روایات سے فائدہ اٹھا کر رسول کریم ﷺپر سخت سے سخت حملے کرنے کے عادی ہیں مگر ان کے حملوں کی سختی آج سے تیس ،چالیس سال پہلے جس حد کو پہنچی ہوئی تھی اس کی مثال آجکل نہیں مل سکتی- ان لوگوں کی حد سے بڑھی ہوئی زبان درازی کو دیکھ کر حضرت اقدسؑ مسیح موعود علیہ السلام نے نہایت زور سے ان کا مقابلہ کرنا شروع کیا اور آخر آپ کے حملوں کی تاب نہ لاکر مسیحی حملہ آور اپنے مقام کو چھوڑ گئے اور اب اس طرز تحریر کا نام نہیں لیتے جو اس وقت انہوں نے اختیار کر چھوڑی تھی ان لوگوں میں سے جو سخت گندہ دہانی سے کام لیتے تھے ایک صاحب ڈپٹی عبداللہ آتھم بھی تھے-